واشنگٹن ( کیف ) یوکرین کے صدر ولادیمیر زیلنسکی نے روس پر الزام عائد کیا ہے کہ وہ یوکرینی شہریوں پر “سفاکانہ” حملے کر رہا ہے، جن کا مقصد ان کے اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے درمیان پیر کے روز واشنگٹن میں ہونے والی ملاقات کو سبوتاژ کرنا ہے۔
یوکرینی حکام کے مطابق، شمالی شہر خارکیف میں ایک رہائشی کمپلیکس پر ڈرون حملے کے نتیجے میں کم از کم سات افراد جاں بحق ہوئے، جن میں ایک ایک سالہ بچی بھی شامل ہے۔ اسی طرح جنوب مشرقی شہر زاپوریزژیا پر ہونے والے حملوں میں تین افراد ہلاک ہوئے۔
زیلنسکی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس ( سابق ٹوئٹر ) پر لکھا کے “یہ ایک دکھاوے کا اور انتہائی بے حس روسی حملہ تھا۔”
“روسی جنگی مشین ہر حال میں انسانی زندگیاں تباہ کر رہی ہے۔ پوتن یوکرین اور یورپ پر دباؤ برقرار رکھنے اور سفارتی کوششوں کی تذلیل کے لیے یہ قتل عام کرتا رہے گا۔”
یوکرین پر دباؤ
جمعہ کے روز الاسکا میں ہونے والے ایک اجلاس میں روسی صدر ولادیمیر پوتن کے لیے قالین بچھانے کے بعد، صدر ٹرمپ اب یوکرین پر دباؤ ڈال رہے ہیں کہ وہ یورپ کی 80 سالہ تاریخ کی مہلک ترین جنگ کو ختم کرنے کے لیے ایک امن معاہدہ قبول کرے۔

تجزیہ کاروں کے مطابق، اس جنگ میں دونوں طرف سے دس لاکھ سے زائد افراد ہلاک یا زخمی ہو چکے ہیں، جن میں زیادہ تر یوکرینی شہری شامل ہیں۔ کیف اور اس کے اتحادیوں کو تشویش ہے کہ ٹرمپ ماسکو کے حق میں زیادہ جھکاؤ رکھنے والا معاہدہ مسلط کر سکتے ہیں۔
روس کی وزارت دفاع کی روزانہ رپورٹ میں کہا گیا کہ خارکیف کے علاقے میں یوکرینی یونٹس کو نشانہ بنایا گیا، لیکن شہر خارکیف پر حملے کا کوئی ذکر نہیں کیا گیا۔ روس کا دعویٰ ہے کہ وہ شہریوں کو جان بوجھ کر نشانہ نہیں بناتا۔
ٹرمپ زیلنسکی ملاقات
وائٹ ہاؤس کے مطابق، ٹرمپ پہلے زیلنسکی سے ملاقات کریں گے اور پھر برطانیہ، جرمنی، فرانس، اٹلی، فن لینڈ، یورپی یونین اور نیٹو کے رہنماؤں سے ملاقات کریں گے۔ یورپی رہنما واشنگٹن کا سفر کر رہے ہیں تاکہ یوکرین کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کیا جا سکے اور جنگ کے بعد کسی بھی معاہدے میں مضبوط سیکیورٹی گارنٹیز کی وکالت کی جا سکے۔
ٹرمپ کی ٹیم نے اتوار کے روز زور دیا کہ دونوں فریقین کو کچھ نہ کچھ قربانی دینا ہوگی۔ تاہم، ٹرمپ نے جنگ کے خاتمے کی ذمہ داری زیلنسکی پر ڈال دی۔
انہوں نے ایک سوشل میڈیا پوسٹ میں کہا کہ یوکرین کو 2014 میں روس کے زیر قبضہ آنے والے علاقے کریمیا کو واپس لینے یا نیٹو میں شمولیت کی امیدیں ترک کر دینی چاہئیں۔ جو یہ اشارہ دیتا ہے کہ وہ زیلنسکی پر سخت دباؤ ڈالیں گے۔
آمریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ٹرتھ سوشل پر لکھا کہ زیلنسکی اگر چاہے تو روس کے ساتھ جنگ کو فوراً ختم کر سکتا ہے، یا پھر لڑائی جاری رکھ سکتا ہے۔۔
سیکیورٹی گارنٹیز
یوکرین اور اس کے اتحادیوں کو کچھ مثبت اشارے ملے ہیں، جیسے کہ ٹرمپ کی طرف سے جنگ کے بعد سیکیورٹی گارنٹیز دینے کی رضامندی۔ جرمن حکومت کے ایک ترجمان نے پیر کے روز کہا کہ یورپی رہنما اس حوالے سے مزید تفصیلات حاصل کرنے کی کوشش کریں گے۔
زیلنسکی پہلے ہی پوتن کی طرف سے الاسکا اجلاس میں پیش کی گئی شرائط کو تقریباً مسترد کر چکے ہیں، جن میں مشرقی ڈونیٹسک کے اس حصے سے دستبرداری کی شرط شامل ہے، جس پر یوکرین کا کنٹرول ابھی باقی ہے۔
دوسری طرف، روس نے رات گئے خارکیف پر میزائلوں اور ڈرونز سے حملے کیے۔ ایک مقامی رہائشی اولینا یاکوشیوا نے رائٹرز سے بات کرتے ہوے کہا کہ یہ ایک عام رہائشی عمارت تھی، بہت سے فلیٹس، بہت سے خاندان یہاں رہتے تھے، چھوٹے بچے، بچوں کا کھیل کا میدان، یہاں صرف رہائش تھی، کوئی دفتر یا فوجی مرکز نہیں تھا۔
میدان جنگ کی صورت حال

میدان جنگ میں، روس آہستہ آہستہ اپنی برتری کو استعمال کرتے ہوئے آگے بڑھ رہا ہے۔ پوتن کا کہنا ہے کہ وہ اپنے فوجی اہداف کے حصول تک جنگ جاری رکھیں گے۔
پوتن کی پیش کردہ شرائط زیلنسکی کے لیے ناقابل قبول نظر آتی ہیں۔ یوکرینی فوجیں ڈونیٹسک کے علاقے میں گہرائی میں مورچہ بند ہیں، جہاں کے شہر اور پہاڑ روسی حملوں کو روکنے کے لیے اہم دفاعی پوزیشن رکھتے ہیں۔
توانائی کا بحران
ادھر، روس سے ہنگری اور سلوواکیہ کو تیل کی فراہمی کرنے والی دروجبا پائپ لائن بند کر دی گئی۔ ہنگری نے اس کا الزام یوکرین پر لگایا کہ اس نے ایک ٹرانسفارمر اسٹیشن پر حملہ کیا۔ یوکرینی وزیر خارجہ آندری سیبیہا نے حملے کی تصدیق یا تردید نہیں کی۔