روس کے لیے جنگ لڑنے کے الزامات، پاکستان کا یوکرین سے وضاحت طلب کرنے کا اعلان

فہرستِ مضامین

اسلام آباد ( ویب ڈیسک ) پاکستان نے یوکرینی صدر کے پاکستانیون پر روس کے لیے جنگ لڑنے کے الزامات پر یوکرین سے باضابطہ وضاحت طلب کرنے کا اعلان کردیا ہے۔

یوکرین کے صدر ولادیمیر زیلنسکی نے کچھ روز قبل سوشل میڈیا پلیٹ فارم “ایکس” (سابقہ ٹوئٹر) پر جاری بیان میں دعویٰ کیا تھا کہ روس اور یوکرین کی جنگ میں کئی ممالک کے جنگجو روس کے ساتھ مل کر یوکرین کے خلاف لڑ رہے ہیں، جن میں پاکستان بھی شامل ہے۔

اس حوالے سے دفتر خارجہ میں ہفتہ وار بریفنگ کے دوران ترجمان دفتر خارجہ نے کہا کہ پاکستان یوکرین سے باضابطہ وضاحت طلب کرے گا۔

انہوں نے کہا کہ  پاکستان یوکرینی صدر کی طرف سے یوکرین جنگ میں پاکستانیوں کے ملوث ہونے کے الزام کو مسترد کرتاہے۔

انہون نے بتایا کہ ابھی تک یوکرینی حکام نے پاکستان سے رابطہ کرکے الزام کے متعلق کوئی بات نہیں کی، یوکرین سے متعلق کوئی قابلِ تصدیق شواہد پاکستان کو فراہم نہیں کیے گئے۔

دفتر خارجہ کے ترجمان نے مزید کہا کہ پاکستان یوکرین تنازع کا پرامن حل چاہتا ہے اور اقوامِ متحدہ کے طے شدہ اصولوں کے مطابق بات چیت اور سفارت کاری کے ذریعے تنازعات کے حل پر یقین رکھتا ہے۔

یوکرینی صدر زیلنسکی کے الزامات

یوکرین کے صدر ولادیمیر زیلنسکی نے “ایکس” (سابقہ ٹوئٹر) پر بیان میں دعویٰ کیا تھا کہ روس اور یوکرین کی جنگ میں کئی ممالک کے جنگجو روس کے ساتھ مل کر یوکرین کے خلاف لڑ رہے ہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ “ہماری اگلی محاذ پر لڑنے والے کمانڈروں سے گفتگو ہوئی ہے، جنہوں نے بتایا کہ روس کی طرف سے مختلف ممالک سے تعلق رکھنے والے جنگجو ہمارے خلاف محاذوں پر لڑ رہے ہیں۔”

صدر زیلنسکی کے مطابق جنگی رپورٹس میں کہا گیا ہے کہ چین، تاجکستان، ازبکستان، پاکستان اور کچھ افریقی ممالک سے تعلق رکھنے والے کرائے کے جنگجو بھی یوکرین کے خلاف لڑائی میں شریک ہیں۔

پاکستان سے یوکرین کو اسلحہ بھیجنے کے الزامات

میڈیا رپورٹس، جن میں 2023 میں بی بی سی کی ایک رپورٹ بھی شامل ہے، جس میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ پاکستان نے دو نجی امریکی کمپنیوں کے ساتھ 364.6 ملین ڈالرز مالیت کے اسلحہ کی فروخت کا معاہدہ کیا، جس کے تحت یہ اسلحہ مبینہ طور پر یوکرین بھیجا گیا۔

ان الزامات کی پاکستان کی وزارت خارجہ، اُس وقت کے نگران وزیراعظم انوار الحق کاکڑ اور روسی سفیر البرٹ پی خورےف نے بھی سختی سے تردید کی تھی۔

یوکرینی صدر زیلنسکی اس سے قبل روس پر چین کے جنگجو بھرتی کرنے کے الزامات بھی لگا چکے ہیں، جن کی چین کی حکومت نے سختی سے تردید کی تھی۔اسی جنگ کے دوران شمالی کوریا پر بھی ایسے ہی الزامات لگے کہ اس نے ہزاروں فوجی روس کے کورسک علاقے میں تعینات کر دیے ہیں۔

روس یوکرین جنگ کا پس منظر

روسی اور یوکرینی افواج کے درمیان یہ جنگ 24 فروری 2022 کو اس وقت شروع ہوئی، جب روسی صدر ولادیمیر پیوٹن نے اپنی فوج کو یوکرین پر حملے کا حکم دیا۔

یہ جنگ پاکستان میں اس وقت خاصی زیر بحث آئی، جب روس کے یوکرین پر حملے کے وقت پاکستان کے اس وقت کے وزیراعظم عمران خان سرکاری دورے پر روس میں موجود تھے۔

بعد ازاں اپریل 2022 میں اپوزیشن جماعتوں نے تحریک عدم اعتماد کے ذریعے عمران خان کی حکومت کو برطرف کر دیا۔

مزید خبریں

مقبول ترین خبریں