اسلام آباد: وزیر دفاع خواجہ آصف نے کہا ہے کہ ڈی جی آئی ایس پی آر لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے اپنی حالیہ پریس کانفرنس میں خیبر پختونخوا حکومت کے حوالے سے واضح مؤقف پیش کیا۔
سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر جاری بیان میں خواجہ آصف نے کہا کہ دہشت گردی کی مبینہ سہولت کاری میں ملوث ہوکر سیاست کے پیچھے نہیں چھپا جا سکتا۔
وزیر دفاع نے ڈی جی آئی ایس پی آر کی پریس کانفرنس کا حوالہ دیتے ہوئے سوال اٹھایا کہ اگر ملک دہشت گردی کے خلاف جنگ لڑ رہا ہے تو صوبائی حکومت اس میں آگے کیوں نہیں آتی؟ انہوں نے خیبر پختونخوا میں پولیس کی استعداد کار بڑھانے کے اقدامات پر بھی سوالات اٹھائے۔
خواجہ آصف نے دعویٰ کیا کہ ڈی جی آئی ایس پی آر نے اپنی پریس کانفرنس میں خیبر پختونخوا حکومت کے حوالے سے تقریباً ایک ’’چارج شیٹ‘‘ پیش کردی اور واضح پیغام دیا کہ اب یہ طرزِ عمل جاری نہیں رہ سکتا۔
انہوں نے مزید کہا کہ ان کے لیے سب سے اہم ریاست ہے، کیونکہ ریاست ہوگی تو سیاست اور جمہوریت بھی موجود ہوں گی۔
دوسری جانب ڈی جی آئی ایس پی آر نے اپنی پریس کانفرنس میں کہا تھا کہ فوج کا سیاست سے کوئی تعلق نہیں، جبکہ ان کے مطابق سیاست کرنا سیاسی جماعتوں کا کام ہے اور صوبوں سے متعلق سوالات کا جواب وفاقی حکومت کی ذمہ داری ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ ملکی سلامتی اور دفاع پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔