معروف پاکستانی اداکارہ زارا نور عباس نے کہا ہے کہ اگر انہیں ایک دن کے لیے پولیس افسر بننے کا موقع دیا گیا تو وہ خواتین اور بچوں سے زیادتی کے مقدمات میں ملوث مجرموں کو پھانسی دینے کا فیصلہ کریں گی۔
زارا نور عباس ان دنوں اپنی نئی فلم ’شیروز‘ کی تشہیری مہم میں مصروف ہیں، جو سندھ فلمز اور جیو فلمز کے اشتراک سے تیار کی گئی ہے۔ تین کہانیوں پر مشتمل اس فلم میں مختلف خواتین کی زندگی اور جدوجہد کو موضوع بنایا گیا ہے۔
فلم کے حصے ’گئیر اپ‘ میں زارا نور عباس مرکزی کردار ادا کررہی ہیں، جس کی ہدایت کاری ثاقب خان نے کی ہے۔ اداکارہ تقریباً سات سال بعد بڑے پردے پر واپسی کررہی ہیں اور فلم کے حوالے سے پرامید ہیں۔
جیو ڈیجیٹل کو دیے گئے خصوصی انٹرویو میں زارا نور عباس نے اپنے کردار کے بارے میں بتایا کہ فلم میں ان کے کردار کا نام بھی سائرہ ہے۔ وہ بم ڈسپوزل اسکواڈ کی ایک افسر کا کردار ادا کررہی ہیں، جس کی صلاحیتوں کو صرف خاتون ہونے کی وجہ سے نظر انداز کیا جاتا ہے۔
اداکارہ کے مطابق کہانی میں سائرہ کو معلوم ہوتا ہے کہ ایک بم کہیں نصب کیا گیا ہے، جسے ناکارہ بنانے کے ساتھ ساتھ اسے اپنی پیشہ ورانہ صلاحیتیں بھی ثابت کرنا ہوتی ہیں۔
ان سے سوال کیا گیا کہ اگر انہیں ایک دن کے لیے پولیس افسر بننے کا موقع دیا جائے تو وہ کیا کریں گی؟ اس پر زارا نور عباس نے کہا کہ وہ خواتین اور بچوں سے زیادتی کے مقدمات میں ملوث تمام مجرموں کو پھانسی دینے کا فیصلہ کریں گی۔
اداکارہ نے گفتگو کے دوران اپنے شوہر اور اداکار اسد صدیقی کا بھی دلچسپ انداز میں ذکر کیا۔ ان سے پوچھا گیا کہ اگر کسی سلیبرٹی کو گرفتار کرنا پڑے تو وہ کس کو گرفتار کریں گی؟ زارا نور عباس نے مزاحیہ انداز میں جواب دیا کہ وہ اپنے شوہر اسد صدیقی کو گرفتار کریں گی، چاہے وہ خوشی سے ان کے ساتھ رہ رہے ہوں یا ان سے ناراض ہوں۔
تفتیشی کمرے میں کسی شخصیت کو بٹھانے سے متعلق سوال پر اداکارہ نے اداکار فہد مصطفیٰ کا نام لیا۔
واضح رہے کہ اینتھالوجی فلم ’شیروز‘ 2 اکتوبر کو پاکستان بھر کے سینما گھروں میں ریلیز کی جائے گی۔ فلم کے دیگر حصوں ’پنچ‘ اور ’آرٹسٹ‘ میں بالترتیب اداکارہ اشنا شاہ اور کنزہ ہاشمی مرکزی کرداروں میں نظر آئیں گی۔