فیصل آباد( ویب نیوز) فیصل آباد کی انسداد دہشتگردی عدالت نے 9 مئی کے مقدمات کا فیصلہ سناتے ہوئے قومی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر عمر ایوب اور سینیٹ میں قائد حزب اختلاف شبلی فراز سمیت پی ٹی آئی کے 108 رہنماؤں اور کارکنان کو 10، 10 سال قید کی سزا سنادی ہے۔
انسداد دہشت گردی عدالت نے رکن پنجاب اسمبلی جنید افضل ساہی کو 3 سال قید کی سزا سنائی جبکہ سابق وفاقی وزیر فواد چوہدری اور شاھ محمود قریشی کے صاحبزادے زین قریشی اور خیال کاسترو کو مقدمات سے بری کردیا۔
انسداد دہشت گردی کی خصوصی عدالت نے 9 مئی کے دو مقدمات کا فیصلہ سنایا، عدالت نے دو مقدمات میں 166 ملزمان کو 10، 10 سال قید کی سزائیں سنائیں۔
زرتاج گل اور حامد رضا کو بھی 10,10 سال قید کی سزا
عدالت نے حساس ادارے پر حملہ کیس میں 185 میں سے 108ملزمان کو سزا سنائی جبکہ دیگر کو بری کر دیا گیا ہے۔
غلام محمد آباد میں درج 9 مئی کے مقدمے میں 66 ملزمان میں سے 8 ملزمان کو بری کر دیا گیا، جبکہ 58 ملزمان کو 10، 10 سال کی سزا سنائی گئی۔
انسداد دہشتگردی کی عدالت نے ایم این اے زرتاج گل، رکن قومی اسمبلی صاحبزادہ حامد رضا اور شیخ رشید کے بھیتجے شیخ راشد شفیق کو بھی 10، 10 سال قید کی سزا سنائی ہے۔
سزائوں کے بعد اپوزیشن لیڈر پنجاب کا عہدہ خالی قرار
گزشتہ ہفتے 22 جولائی کو 9 مئی 2023 کے میانوالی میں احتجاج کے مقدمے میں، اپوزیشن لیڈر پنجاب اسمبلی ملک احمد بھچر،احمد چٹھہ اور ڈاکٹر یاسمین راشد سمیت پی ٹی آئی کے 32 رہنماؤں اور کارکنوں کو 10،10 سال قید کی سزا سنائی تھی۔
انسداد دہشت گردی عدالت سرگودھا کے اس فیصلے کے بعد الیکشن کمیشن نے احمد بچھر کو نااہل قرار دے دیا تھا، آج پنجاب اسمبلی میں اپویشن کے عہدے کو خالی قرار دے دیا گیا ہے۔

واضح رہے کہ اس سے قبل 21 دسمبر 2024 کو فوجی عدالت نے سانحہ 9 مئی کے کیس میں ملوث 25 مجرموں کو 10 سال تک قید کی سزا سنائی تھی۔
بعدازاں 26 دسمبر 2024 کو فوجی عدالت نے سانحہ 9 مئی 2023 میں ملوث عمران خان کے بھانجے حسان نیازی سمیت مزید 60 مجرمان کو 10 سال تک قید بامشقت کی سزائیں سنادی تھیں۔
دریں اثنا، پاک فوج کے کورٹس آف اپیل نے رواں سال 2 جنوری کو سانحہ 9 مئی 2023 کے 19 مجرمان کی سزاؤں میں معافی کا اعلان کردیا تھا۔
کیسوں کا پس منظر
یاد رہے کہ 9 مئی 2023 کو القادر ٹرسٹ کیس میں عمران خان کی اسلام آباد ہائی کورٹ کے احاطے سے گرفتاری کے بعد پی ٹی آئی کی طرف سے ملک گیر احتجاج کیا گیا تھا۔
اس دوران لاہور کے علاقے ماڈل ٹاؤن میں 9 مئی کو مسلم لیگ (ن) کے دفتر کو جلانے کے علاوہ فوجی، سول اور نجی تنصیبات کو نذر آتش کیا گیا، سرکاری و نجی املاک کو شدید نقصان پہنچایا گیا تھا، جبکہ اس دوران کم از کم 8 افراد ہلاک اور 290 زخمی ہوئے تھے۔
مظاہرین نے لاہور میں کور کمانڈر کی رہائش گاہ پر بھی دھاوا بول دیا تھا جسے جناح ہاؤس بھی کہا جاتا ہے اور راولپنڈی میں واقع جنرل ہیڈکوارٹرز (جی ایچ کیو) کا ایک گیٹ بھی توڑ دیا گیا تھا۔
اس کے بعد ملک بھر میں قانون نافذ کرنے والے اداروں کے ساتھ لڑائی، توڑ پھوڑ اور جلاؤ گھیراؤ میں ملوث 1900 افراد کو گرفتار کر لیا گیا تھا، جبکہ عمران خان اور ان کی پارٹی رہنماؤں اور کارکنان کے خلاف مقدمات بھی درج کیے گئے تھے۔