ریاض: سعودی عرب کے فرمانِ شاہی کے تحت 90 سالہ قدامت پسند عالمِ دین شیخ صالح بن فوزان بن عبداللہ الفوزان کو ملک کا نیا مفتیِ اعظم مقرر کیا گیا ہے۔ اس طرح مملکت نے حالیہ برسوں میں تیزی سے رونما ہونے والی سماجی تبدیلیوں کے باوجود اپنی مذہبی روایت کو برقرار رکھا ہے۔
سرکاری خبر رساں ایجنسی سعودی پریس ایجنسی (ایس پی اے) کے مطابق یہ تقرری بدھ کی رات شاہی فرمان کے ذریعے عمل میں آئی۔
شیخ صالح الفوزان، مرحوم مفتیِ اعظم عبدالعزیز آل الشیخ کے جانشین بنے ہیں جو گزشتہ ماہ انتقال کر گئے تھے۔ آل الشیخ دو دہائیوں سے زائد عرصے تک اس منصب پر فائز رہے۔
شیخ الفوزان ماضی میں کم عمری کی شادی اور بعض فرقہ وارانہ معاملات پر متنازع آرا رکھنے کے باعث خبروں میں رہے ہیں۔ 2011 میں انہوں نے وزارتِ انصاف کی اس تجویز کی مخالفت کی تھی جس میں شادی کے لیے کم از کم عمر مقرر کرنے کی بات کی گئی تھی۔
رپورٹس کے مطابق ان کی تقرری ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کی سفارش پر کی گئی، جو مملکت کے عملی حکمران ہیں اور جنہوں نے سعودی عرب میں وسیع سماجی و اقتصادی اصلاحات متعارف کرائی ہیں۔
اگرچہ سعودی عرب ایک قدامت پسند ملک رہا ہے، لیکن 2017 میں شہزادہ محمد بن سلمان کو ولی عہد بنائے جانے کے بعد خواتین کی ڈرائیونگ کی اجازت، غیر مسلم سیاحوں کا داخلہ اور سماجی آزادیوں میں اضافہ جیسے اقدامات کیے گئے، جس سے مذہبی علما کا اثر و رسوخ محدود ہوا۔
برطانیہ کی برمنگھم یونیورسٹی سے تعلق رکھنے والے ماہرِ امورِ سعودی عرب ڈاکٹر عمر کریم کا کہنا ہے کہ یہ تقرری مملکت کی روایتی مذہبی پالیسی کے مطابق ہے، جس کے تحت علما کونسل کے سب سے سینئر اور معزز رکن کو مفتیِ اعظم کے طور پر منتخب کیا جاتا ہے۔