یوسف علی کا شمار پاکستان کے ان منجھے ہوئے فنکاروں میں ہوتا ہے، جو اپنے کرداروں میں ڈوب کر اداکاری کرنے کے باعث خود بھی مشہور ہوئے اور ان کرداروں کو بھی امر کردیا۔
یوسف علی کی 33 ویں برسی کے موقع پر ان کے مداحوں کی طرف سے سوشل میڈیا پر ٹربیوٹ پیش کرنے کا سلسلہ جاری ہے۔
بہت سے لوگوں کو شاید اس بات کا پتہ نہ ہو کہ تھرپارکر کے علاقے جھڈو سے تعلق رکھنے والے یوسف علی کا تعلق اقلیتی برادری سے تھا، یوسف علی علاقے کی مشہور ڈاکٹر دیوی کا اکلوتا اور لاڈلا بیٹا موہن تھا۔
1945 میں جنم لینے والا موہن اپنے والدین کا کتنا لاڈلا تھا، اس کا اندازہ آپ اس بات سے لگا سکتے ہیں کہ جھڈو میں جب بجلی آئی تو والدہ ڈاکٹر دیوی اپنے بیٹے کے لیے بلیک اینڈ وائیٹ ٹی وی لے کر آئی۔
ڈاکٹر دیوی کے شوہر ایک ٹیکسی ڈرائیور تھے اور دونوں دلیپ کمار کے مداح تھے، فن اور اداکاری کے رسیا والدین کی صحبت میں یوسف علی کو اداکاری کا شوق بچپن سے ہی تھا۔
یوسف علی نے اسلام کب قبول کیا
1967 میں ڈاکٹر دیوی کا انتقال ہوا اور ایک سال بعد ان کے شوہر بھی چل بسے، ماں باپ کا سایہ سر سے اٹھنے کے بعد یوسف علی کو غربت اور مفلسی جھیلنی پڑی، لیکن اس کے حوصلے پست نہیں ہوئے، وہ ایک مستری کے پاس مکینک کا کام کرنے لگا اور اسی دوران اسلام قبول کیا، ان کا اسلامی نام محمد سلیم رکھا گیا۔

فن کی دنیا کا آغاز
محمد سلیم اپنی آنکھوں میں اداکار بننے کے خواب سجا کر کراچی پہنچا اور وہاں بھی موٹرسائیکل مکینک کے طور پر کام جاری رکھا، کسی دوست نے ان کی ملاقات سندھی آرٹسٹ ملڪ انوکھو ۽منظور قريشي سے کرائی، دونوں فنکار پاکستانی فلم انڈسٹری کے بڑے نام تھے۔
ماضی کے موہن اور پھر بعد کے محمد سلیم نے جب فن کی دنیا میں قدم رکھا تو وہ پھر یوسف علی بن گیا، یوسف علی نے فنی کیریئر کا آغاز سندھی ڈراموں سے کیا، ان کی زندگی کا پہلا سندھی ڈرامہ ‘ڈھگو پیر پیران’ تھا، جو بے حد مقبول ہوا، اس کے بعد ‘خان صاحب’ اور پھر اردو ڈرامہ ‘چھوٹی سی دنیا’ نے اسے پاکستان بھر میں مقبول بنا دیا۔
یوسف علی کے مشہور ڈرامے

ان کے دیگر ڈراموں ‘جنگل’، ‘دیواریں’، ‘رانی جی کہانی’، ‘کموں کم چور’ اور بہت سے ڈراموں نے انہیں شہرت کی بلندیوں تک پہنچا دیا۔
فلموں میں کامیابی کے لیے یوسف علی نے فلمی بورڈنگ اور اسٹنٹ ورک بھی سیکھا اور بطور ڈپلیکیٹ اور فائیٹر بھی کام کیا، اگرچہ ایک حادثے کے بعد انہوں نے یہ کام چھوڑ دیا، تاہم وہ فلموں میں سائیڈ ولن کے کرداروں میں نظر آئے، جن میں ‘مٹھڑا شال ملن’، ‘جیجل ماں’، ‘غیرت’، ‘انسان اور گدھا’ اور دیگر شامل ہیں۔
یوسف علی کواعزازات سے نواز گیا
ہارون رند کی سیریل ‘خان صاحب’ میں ٹائٹل رول نے انہیں قومی شہرت دی، اس سیریل کے اردو ترجمہ ‘چھوٹی سی دنیا’ سے ان کی شہرت ایوان صدر تک پہنچی اور اس وقت کے صدر ضیاء الحق نے انہیں مختلف اعزازات سے نوازا۔
‘رانی جی کہانی’ اور ‘دیواریں’ جیسے ڈراموں، اور ‘گلن واری چھوکری’، ‘تماشہ’، ‘تلاش’، ‘قہقہوں کا شہر’ اور ‘پگھلتی ہوئی برف’ میں ان کی اداکاری آج بھی یاد کی جاتی ہے۔

یوسف علی کا آخری ڈرامہ ‘نجات’ تھا، جو سائرہ کاظمی نے پروڈیوس کیا تھا، اس ڈرامے میں ادا کیے گئے اس کے کردار کو بھی خوب پذیرائی ملی، ان کے اعزاز میں حیدرآباد میں ایک تقریب بھی منعقد کی گئی تھی، وہ اسی تقریب میں شرکت کی تیاری کر رہا تھا کہ 22 اکتوبر 1992 پر یہ خبر ان کے مداحوں پر بجلی بن کر گری کہ یوسف علی دل کا دورہ پڑنے کے باعث انتقال کر گئے ہیں۔
یوسف علی کو بچھڑے ہوئے تین دہائیاں گذر چکی ہیں، لیکن ان کی اداکاری اور ادا کیئے گئے کردار آج بھی زندہ ہیں۔