ڈبلیو ٹی این ڈاٹ کام کراچی
صدر آرٹس کونسل کراچی احمد شاہ اور سندھ کی معروف گلوکارہ صنم ماروی کا معاملا حل ہوگیا، صوبائی وزیر ثقافت و سیاحت سید ذوالفقار علی شاہ نے دونوں کے ہمراہ وڈیو بیان بھی جاری کردیا ہے۔
واقعہ 10 آگسٹ کو سکھر میں اس وقت پیش آیا تھا، جب جناح میونسپل اسٹیڈیم میں ہونے والے ایک ایونٹ میں گلوکارہ صنم ماروی کو مبینہ طور پر پرفارم کرنے سے روک دیا گیا تھا۔
گلوکارہ صنم ماروی نے صدر احمد شاہ پر کنسرٹ کے دوران بدسلوکی اور دھمکی دینے کے الزامات عائد کرتے ہوئے انہیں ہرجانے کا نوٹس بھجوا دیا تھا۔
ذوالفقار شاہ اور نور الہدیٰ وڈیو بیان
اس حوالے سے سندھ کے وزیر ثقافت و سیاحت سید ذوالفقار علی شاہ نے ایک وڈیو بیان جاری کیا ہے، جس میں ان کے ساتھ کالم نگار اور مصنف نور الھدیٰ شاہ، صدر آرٹس کونسل کراچی احمد شاہ اور گلوکارہ صنم ماروی بھی موجود تھی۔
سید ذوالفقار علی شاہ نے کہا کہ میں نے اور نورالہدیٰ شاہ نے دونوں طرف سے معاملہ بہتر انداز میں حل کرنے کی کوشش کی،اس معاملے میں دونوں طرف سے جو باتیں تھی وہ ختم ہوچکی ہیں۔
سندھ کے وزیر ثقافت و سیاحت کا مزید کہنا تھا کے صنم ماروی سندھ کا اثاثا ہیں، اگر کسی بات سے ان کی دل آزاری ہوئی ہے تو وہ گلوکارہ سے معذرت کرتے ہیں۔
صنم ماروی اور احمد شاہ کا بیان
گلوکارہ صنم ماروی نے بھی اپنے وڈیو بیان میں معاملا حل ہونے کی تصدیق کی، ان کا کہنا تھا کہ میں سندھ کے عوام کی مشکور ہوں جنہوں نے مجھے سپورٹ کیا۔
صنم ماروی نے سندھ کے وزیر ثقافت و سیاحت اور نور الہدیٰ شاہ کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ سندھ کی روایت ہے، جو بھی ہمارے پاس مہمان بن کر آتا ہے، ان کو عزت دی جاتی ہے۔
صدر آرٹس کونسل کراچی احمد شاہ کا کہنا تھا کہ جو معاملات ہوئے انہیں ختم کررہے ہیں، ہم صنم ماروی کی عزت کرتے ہیں،
آرٹ کونسل آرٹسٹوں کا ہے ہمیشہ فنکاروں کی عزت کرتے ہیں۔

احمد شاہ کا کہنا تھا کے کوئی مسئلا نہیں تھا، صنم ماروی کو شاید غلط فہمی ہوئی تھی، صنم ہماری چھوٹی بھنوں کی طرح ہے، وہ شروع سے آرٹس کونسل میں پرفارم کرتی آئی ہیں۔
احمد شاہ کا مزید کہنا تھا کہ وہ چپ کرکے بیٹھے تھے، انہیں ذوالفقار شاہ نے بات کرنے سے روک کر رکھا تھا، 9 دن تک مسلسل خاموش رہنا بڑا مشکل ہوتا ہے، ہم اگر کوئی لڑائی لڑتے تو بڑی لڑائی ہوتی، اپنے بچوں اور بہنوں سے کون لڑتا ہے۔
صدر آرٹس کونسل کراچی کا مزید کہنا تھا کہ لڑائی وہاں لڑی اور جیتی جاتی ہے، جہاں آپ کا کوئی مخالف ہو، صنم ماروی کے ساتھ ہمیشہ سے عزت اور احترام کا رشتا رہا ہے، انشاء اللہ ساری زندگی قائم رہیگا، جو لوگ سندھ کے آرٹ اور کلچر کا تباہ اور برباد کرنا چاہتے تھے، وہ ناکام ہوئے ہیں۔
معاملا کیا تھا؟
گلوکارہ صنم ماروی نے آرٹس کونسل آف پاکستان کراچی کے صدر احمد شاہ پر سکھر میں 10 آگسٹ کو منعقدہ ایک کنسرٹ کے دوران بدسلوکی اور دھمکی دینے کے الزامات عائد کیا تھا اور انہیں 5 کروڑ روپے ہرجانے کا نوٹس بھجوا دیا تھا۔
مذکورہ قانونی نوٹس میں صنم ماروی نے الزام عائد کیا تھا کہ احمد شاہ نے انہیں توہین آمیز سلوک کا نشانہ بنایا اور 10 اگست کو سکھر کے جناح میونسپل اسٹیڈیم میں ہونے والے ایک ایونٹ میں پرفارم کرنے سے روک دیا۔
گلوکارہ کے مطابق انہیں مذکورہ تقریب میں شرکت کے لیے خصوصی طور پر مدعو کیا گیا تھا، مذکورہ ایونٹ سندھ حکومت کی جانب سے معرکہ حق اور یوم آزادی کے موقع پر منعقد کیے گئے کنسرٹس کے سلسلے کا حصہ تھا، جس کے انعقاد میں آرٹس کونسل نے تعاون کیا۔
احمد شاہ نے نے صنم ماروی کے تمام الزامات کو مسترد کرتے ہوئے دعویٰ کیا تھا کہ دراصل صنم رات 10 یا 10:15 بجے کے قریب پہنچیں جبکہ ان کا شیڈول شام 7 بجے تھا اور ٹیم نے انہیں زیادہ سے زیادہ 7:30 بجے تک مقام پر پہنچنے کی ہدایت کی تھی۔