سندھ کے کچہ ایریا میں قیامِ امن کی کوششیں رنگ لانے لگیں، درجنوں مبینہ ڈاکو ہتھیار ڈالنے کو تیار

فہرستِ مضامین

کراچی: صدر مملکت آصف علی زرداری کی زیر صدارت ہونے والے کچہ ایریا میں قیامِ امن سے متعلق اجلاس کے اثرات سامنے آنے لگے، جہاں درجنوں مبینہ جرائم پیشہ افراد اور ڈاکو سرینڈر کرنے پر آمادہ ہو گئے ہیں۔

ذرائع کے مطابق، سندھ حکومت کی نئی حکمتِ عملی کے تحت مبینہ ڈاکو ہتھیار ڈالنے اور مجرمانہ سرگرمیوں سے دستبردار ہونے کو تیار ہیں۔ ان میں کئی ایسے افراد بھی شامل ہیں جن پر سنگین نوعیت کے الزامات اور سر کی قیمت مقرر تھی۔

یاد رہے کہ سندھ کابینہ نے رواں ماہ ہی ان عناصر کے لیے ایک پالیسی کی منظوری دی تھی، جس کے تحت جو افراد مجرمانہ سرگرمیاں ترک کریں گے، انہیں ریہیبلیٹیشن اور باعزت روزگار کے مواقع فراہم کیے جائیں گے۔

ذرائع کے مطابق، پہلے مرحلے میں لاڑکانہ ڈویژن کے کچہ ایریا میں سرگرم 45 سے زائد مبینہ ڈاکو ہتھیار ڈالنے کو تیار ہو چکے ہیں، جن میں بعض انتہائی مطلوب افراد بھی شامل ہیں۔

سندھ حکومت کی پالیسی کے تحت سرینڈر کرنے والوں کے بچوں اور خاندان کے لیے روزگار، آسان قرضے اور چھوٹے کاروبار کے مواقع فراہم کیے جائیں گے۔ کچہ علاقوں میں تعلیم، صحت اور بنیادی انفراسٹرکچر پر ترجیحی بنیادوں پر کام کیا جائے گا۔ ہتھیار ڈالنے والے افراد سے قانون کے مطابق نمٹا جائے گا۔

یہ پیشرفت سندھ میں دیرپا امن کے قیام کی جانب اہم قدم قرار دی جا رہی ہے۔

مزید خبریں

مقبول ترین خبریں