سندھ ہائیکورٹ: فردوس شمیم نقوی کی گرفتاری سے روکنے کا حکم برقرار، این سی سی آئی اے سے رپورٹ طلب

فہرستِ مضامین

کراچی: سندھ ہائیکورٹ میں پی ٹی آئی رہنما فردوس شمیم نقوی کی ایف آئی اے کی جانب سے تحقیقات کے لیے طلبی کے خلاف درخواست پر سماعت ہوئی، عدالت نے نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (این سی سی آئی اے) سے رپورٹ طلب کر لی۔

عدالت نے استفسار کیا کہ بتایا جائے درخواست گزار کے خلاف کن الزامات پر تحقیقات کی جا رہی ہیں۔ جسٹس عمر سیال نے ریمارکس دیے کہ “پہلے جو کیسز ایف آئی اے کے پاس تھے، وہ اب این سی سی آئی اے کو منتقل ہوچکے ہیں؟”

درخواست گزار کے وکیل نے مؤقف اختیار کیا کہ فردوس شمیم نقوی کو ایف آئی اے کی جانب سے مختلف نوٹسز کے ذریعے اسلام آباد طلب کیا گیا، مگر ان نوٹسز پر تاریخ اجراء درج نہیں جبکہ یہ نوٹسز طلبی کی تاریخ گزرنے کے بعد موصول ہوئے۔

فردوس شمیم نقوی نے عدالت کو بتایا کہ وہ 70 سال کے بزرگ شہری اور سندھ کے رہائشی ہیں، بیمار ہیں، اور اُن کے ساتھ زیادتی ہو رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اُنہیں بار بار اسلام آباد بلایا جا رہا ہے اور اطلاع ملی ہے کہ ان کے وارنٹ گرفتاری جاری ہو چکے ہیں۔

جسٹس عمر سیال نے ریمارکس دیے: “ایک عمر رسیدہ شخص کو ادھر ادھر کیوں گھما رہے ہیں؟” ساتھ ہی کہا کہ “ہم آئی جی اسلام آباد کو حکم نہیں دے سکتے، اگر کہیں تو آئی جی سندھ کو حکم دے دیتے ہیں۔”

عدالت نے کہا کہ اب ایف آئی اے کا پیکا (PECA) قانون سے کوئی تعلق نہیں رہا، یہ اختیارات اب این سی سی آئی اے کے پاس ہیں۔ عدالت نے حکم امتناع میں توسیع کرتے ہوئے فردوس شمیم نقوی کی گرفتاری سے روک دیا اور این سی سی آئی اے سے تمام الزامات کی تفصیلی رپورٹ طلب کرلی۔

مزید خبریں

مقبول ترین خبریں