کراچی: سندھ ہائی کورٹ میں 2014 میں کچے کے علاقے میں بکتر بند گاڑی سے گر کر جاں بحق ہونے والے پولیس اہلکار غلام یاسین کو شہید تسلیم نہ کرنے کے خلاف درخواست پر سماعت ہوئی۔
سرکاری وکیل نے عدالت کو بتایا کہ پولیس اہلکار غلام یاسین کی وفات دورانِ ڈیوٹی نہیں ہوئی بلکہ یہ ایک ٹریفک حادثہ تھا۔ اے آئی جی لیگل نے وضاحت دی ہے کہ اہلکار کی موت ٹریفک حادثے میں ہوئی، لہٰذا ایسے واقعے میں جاں بحق اہلکار کو شہید تسلیم نہیں کیا جا سکتا۔
سرکاری وکیل نے مزید کہا کہ شہید ڈکلیریشن کمیٹی کے مطابق صرف وہ اہلکار شہید قرار دیے جاتے ہیں جو آپریشن، دہشتگردی کے حملے یا کارروائی کے دوران جاں بحق ہوں۔
عدالت نے کہا کہ سرکاری رپورٹ میں تضاد موجود ہے۔ ایس ایس پی کی رپورٹ کے مطابق غلام یاسین دورانِ ڈیوٹی کچے کے علاقے میں بکتر بند گاڑی سے گر کر جاں بحق ہوا، تاہم اب مؤقف پیش کیا جا رہا ہے کہ وہ سڑک حادثے میں جاں بحق ہوا۔
عدالت نے وکیل درخواست گزار کو ہدایت کی کہ وہ عدالت کو جواب الجواب کی نقول فراہم کریں ، جبکہ سماعت 7 نومبر تک ملتوی کر دی گئی۔
درخواست غلام یاسین کے اہل خانہ کی جانب سے دائر کی گئی ہے جنہوں نے مؤقف اختیار کیا ہے کہ اہلکار کے بچوں کو فورس میں شہید کوٹہ کے تحت بھرتی نہیں کیا جا رہا۔