سکھر میں ہندو برادری کا بڑا اجتماع، آرمی چیف سے مدد کی اپیل

فہرستِ مضامین

سکھر (رپورٹ: حیدر میرانی(پریا کماری کی بازیابی کے لیے، ہندو لڑکیوں کی جبری مذہبی تبدیلی، اغوا اور بھتہ خوری کے واقعات کے خلاف ہندو پنچایتوں کی کال پر سکھر میں ہندو برادری کا بڑا اجتماع منعقد ہوا۔

اجتماع میں سکھر، لاڑکانہ اور شہید بینظیر آباد ڈویژن کی مختلف پنچایتوں کے رہنما شریک ہوئے۔ اجتماع میں پریا کماری کی فوری بازیابی اور ہندو لڑکیوں کی جبری مذہبی تبدیلی روکنے کا مطالبہ کیا گیا۔

اس اجتماع میں مکھی ایشور لال، کلپنا دیوی، اغوا شدہ بچی پریا کماری کے والد راج کمار، مکھی ہری لال، دھرم داس راڌڻ، مکھی وکی کمار، ڈاکٹر مہرجند، مرلی دھر، ہریش لال، مکھی سریش کمار اور دیگر شریک ہوئے۔

لڑکیاں بھی محفوظ نہیں ہیں

اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے ہندو پنچایتوں کے رہنماؤں نے کہا کہ سندھ کے مختلف اضلاع میں ہندو برادری سنگین خطرات سے دوچار ہے۔ ہندو تاجر اغوا، بھتہ خوری اور لوٹ مار کا نشانہ بن رہے ہیں۔ ان کی بیٹیاں بھی محفوظ نہیں ہیں۔

رہنماؤں نے کہا کہ لڑکیوں کو اغوا کر کے ان کے ساتھ زیادتی کی جاتی ہے، پھر زبردستی مذہب تبدیل کرا کر ان سے شادیوں کے بیانات لیے جاتے ہیں۔ ان واقعات پر حکومت کی خاموشی افسوسناک ہے۔

ہندو پنچایتوں کے رہنماؤں اور مکھیوں نے اجتماع کے دوران “سندھ ہندو پنچایت” کے قیام کا اعلان بھی کیا۔

اجتماع کے اختتام پر ہندو پنچایت سکھر کے رہنما مکھی ایشور لال، لاڑکانہ کی کلپنا دیوی اور دیگر نے مشترکہ پریس کانفرنس بھی کی۔

آرمی چیف ہی مسئلہ حل کر سکتا ہے

رہنماؤں نے کہا کہ سندھ حکومت اور وفاقی حکومت سندھ میں امن قائم کرنے اور ہندو برادری کو تحفظ دینے میں مکمل طور پر ناکام ہو چکی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ صرف آرمی چیف ہی ہمارا مسئلہ حل کر سکتا ہے، اس لیے ہم صرف آرمی چیف سے مطالبہ کرتے ہیں کہ سندھ میں ہندو برادری کا تحفظ یقینی بنایا جائے۔

ایشور لال اور کلپنا دیوی نے کہا کہ پریا کماری کی بازیابی کے لیے ببرلو سے لے کر کراچی کی تین تلوار کلفٹن تک دھرنے دیے گئے۔ صوبائی وزیر داخلہ اور دیگر نے یقین دہانیاں کروائیں، لیکن اب تک پریا کماری بازیاب نہیں ہو سکی۔

پریا کماری کی بازیابی کے لیے 2 کروڑ بھی دیں گے

مکھی ایشور لال اور کلپنا دیوی نے کہا کہ اگر واقعی ڈاکو پریا کماری کی بازیابی کے بدلے ایک کروڑ روپے مانگ رہے ہیں تو ہندو برادری نہ صرف ایک کروڑ بلکہ دو کروڑ روپے دینے کے لیے بھی تیار ہے۔

رہنماؤں نے مطالبہ کیا کہ پریا کماری کو فوری طور پر بازیاب کرا کے انصاف فراہم کیا جائے، اقلیتوں کے تحفظ کے لیے خصوصی اقدامات کیے جائیں، اور امن و امان کی صورت حال کو بہتر بنایا جائے۔

پریا کماری کا باپ اجتماع کے سامنے جھولی پھیلا کر کھڑا رہا

اس سے قبل، ہندو برادری کے اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے پریا کماری کے والد راج کمار سب کے سامنے جھولی پھیلاتے اور ہاتھ باندھتے ہوئے کہا کہ میری بیٹی کی بازیابی کے لیے آواز بلند کریں، کوئی تحریک چلائیں۔

برادری کے اجتماع کے بعد میڈیا سے بات کرتے ہوئے پریا کماری کے والد راج کمار نے کہا کہ کچے کے ڈاکو آج بھی فون کر کے کہتے ہیں کہ پریا کماری ان کے پاس ہے اور وہ ایک کروڑ روپے بھتہ مانگ رہے ہیں۔

راج کمار نے کہا کہ جس نمبر سے کالز آتی ہیں وہ نمبر آج بھی کھلا ہوا ہے، لیکن پولیس کوئی کارروائی نہیں کر رہی۔

ایک سوال کے جواب میں راج کمار نے کہا کہ میں بار بار خورشید شاہ اور ناصر شاہ کے پاس گیا ہوں، لیکن وہ صرف تسلیاں دے رہے ہیں۔ اگر خورشید شاہ اور ناصر شاہ چاہیں تو میری بیٹی واپس آ سکتی ہے۔

پریا کماری کو چار سال قبل روہڑی کے علاقے سنگرار سے عاشورہ کے موقع پر عزاداروں کے لیے سبیل تقسیم کرتے وقت اغوا کیا گیا تھا۔

مزید خبریں

مقبول ترین خبریں