پروگرام میں ذرائع کے حوالے سے دعویٰ کیا گیا ہے کہ فیصلہ سازوں کیلئے اب صرف پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کا لانگ مارچ مسئلہ نہیں رہا، بلکہ معاملہ وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کی حکومت تک پہنچ چکا ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ معاملہ اب لانگ مارچ سے آگے بڑھ گیا ہے اور اسے قومی سلامتی کا معاملہ قرار دیا جا رہا ہے۔ ذرائع کے مطابق اسی تناظر میں یہ فیصلہ کرلیا گیا ہے کہ سہیل آفریدی کی حکومت کو جانا ہوگا۔
پروگرام کے میزبان شہزاد اقبال نے بتایا کہ پی ٹی آئی کے اہم ذرائع نے لانگ مارچ مؤخر کیے جانے کی تصدیق کی ہے، تاہم انہوں نے اس تاثر کو مسترد کیا کہ مارچ کی تیاری مکمل نہیں تھی۔
پی ٹی آئی ذرائع کے مطابق پارٹی کارکن اور عوام لانگ مارچ کیلئے تیار تھے، تاہم حکمت عملی کے تحت حکومت کو دباؤ میں رکھنے اور طویل سیاسی جدوجہد جاری رکھنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ ذرائع کے مطابق پارٹی قیادت حکومت کے ساتھ فوری ٹکراؤ کے بجائے طویل سیاسی مقابلہ چاہتی ہے۔
پروگرام میں بتایا گیا کہ 5 اکتوبر کی تاریخ بھی پی ٹی آئی کیلئے علامتی اہمیت رکھتی ہے، کیونکہ یہ بانی پی ٹی آئی عمران خان کی سالگرہ کا دن ہے۔ اسی وجہ سے پارٹی کے حلقوں میں اس تاریخ کو اہم سمجھا جا رہا ہے۔
دوسری جانب پروگرام میں ذرائع کے حوالے سے دعویٰ کیا گیا کہ حکومت اور فیصلہ ساز حلقے پی ٹی آئی کے لانگ مارچ کو اب بنیادی مسئلہ نہیں سمجھ رہے۔
ذرائع کے مطابق مؤقف یہ ہے کہ پی ٹی آئی لانگ مارچ کرنا چاہتی ہے تو کرے یا اسے مؤخر کرنا چاہتی ہے تو مؤخر کرے، اصل معاملہ اس سے آگے بڑھ چکا ہے اور اب قومی سلامتی کے پہلو کو زیادہ اہمیت دی جا رہی ہے۔
ذرائع نے الزام عائد کیا کہ سہیل آفریدی اور ان کے ساتھیوں کے دہشت گرد عناصر سے روابط ہیں اور ان روابط کے نتیجے میں ملک میں دہشت گردی میں اضافہ ہو رہا ہے۔ ذرائع کے مطابق اسی بنیاد پر سہیل آفریدی کی حکومت کے مستقبل کے حوالے سے اہم فیصلے کیے جا چکے ہیں۔
واضح رہے کہ سہیل آفریدی کی حکومت کے خاتمے سے متعلق یہ معلومات ذرائع کے دعوے پر مبنی ہیں، جن کی آزادانہ طور پر تصدیق نہیں کی گئی۔ پی ٹی آئی یا خیبرپختونخوا حکومت کا اس مخصوص دعوے پر مؤقف بھی اس خبر میں شامل نہیں ہے۔