نارووال ( ڈبلیو ٹی این مانیٹرنگ ڈیسک ) وزیراعظم محمد شہباز شریف نے پانی کے نئے ذخائرکی تعمیرکو وقت کی ضرورت قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ ہمیں سیلابی صورتحال سے نمٹنے کےلئے قلیل ، درمیانی اور طویل المدتی پالیسیاں وضع کرنا ہوں گی، ٹیم ورک کے ذریعے سیلاب جیسی قدرتی آفت سے نمٹنا جاسکتا ہے۔
وزیراعظم پاکستان شہباز شریف نے پنجاب کے سیلاب متاثرہ علاقوں کا فضائی معائنہ کیا، جہاں این ڈی ایم اے چئیرمین لیفٹیننٹ جنرل انعام حیدر نے انہیں سیلابی صورتحال سے متعلق تفصیلی بریفنگ دی۔
فضائی معائنے بعد وزیراعظم شہباز شریف سیلاب سے متاثرہ علاقہ نارروال پہنچے، اس موقع پر وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز، وفاقی وزیر منصوبہ بندی و ترقی پروفیسر احسن اقبال ، وفاقی وزیر اطلاعات ونشریات عطاء اللہ تارڑ ، چیئرمین این ڈی ایم اے لیفٹیننٹ جنرل انعام حیدرملک اور دیگراعلیٰ حکام بھی موجود تھے۔
پیشگی اطلاعات کی وجہ سے نقصان کم ہوا
اجلاس سے خطاب میں وزیراعظم شہباز شریف نے کہا کہ گلگت بلتستان خیبر پختونخوا کے بعد اب پنجاب کو بارشوں اور سیلاب کی صورتحال کا سامنا ہے، سیلاب سے ہونے والے جانی نقصان پر افسوس ہے۔
انہوں نے کہا کہ وفاقی وزرا،افواج پاکستان،سول انتظامیہ ، این ڈی ایم اے ، ریسکیو1122 ، نارووال کی سیاسی قیادت اوردیگر اداروں کا کردار قابل تحسین ہے،ہیلی کاپٹرز اور کشتیوں کا بھی انتظام کیا گیا ہے ، پیشگی اطلاعات کے نظام کی وجہ سے نقصان کم سے کم ہوا ہے۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان بدقسمتی سے ان ممالک میں شامل ہے جو قدرتی آفات کا نشانہ بن رہے ہیں اور ماحولیاتی تبدیلی سے سب سے متاثرہ 10ممالک میں پاکستان کا نام شامل ہے،ہمیں یہ بات ذہن میں رکھنی چاہئے کہ آئندہ آنے والے سالوں میں یہ سلسلہ چلتا رہے گا۔
پانی ذخیرہ کرنے کی صلاحیت میں اضافہ کرنا ہوگا
وزیراعظم نے کہا کہ اس مقصد کےلئے صوبوں نے اپنی سطح پر تیاریاں کرنی ہیں ، پانی ذخیرہ کرنے کی صلاحیت میں اضافہ کرنا ہوگا اور اس کےلئے اپنے وسائل کو بروئے کار لانا ہوگا، اس سے سیلاب کی صورتحال پر قابو پایا جاسکے گا اگرپانی ذخیرہ کرنے کی صلاحیت ہمارے پاس نہیں ہوگی توہم جتنی بھی کوششیں کرلیں یہ نامکمل ہوں گی۔
انہوں نے کہا کہ پانی ذخیرہ کرنے کی استعدادوقت کی ضرورت ہے اور بغیروقت ضائع کئے اس کی تیاری کرنا چاہئے،بھاشا ڈیم اورمہمند ڈیم کی تعمیر بہت اہم ہے ،اسی طرح پنجاب میں چنیوٹ اور کئی دیگرمقامات پر پانی ذخیرہ کرنے کی صلاحیت پیدا کی جاسکتی ہے،،شمالی علاقوں میں چھوٹے چھوٹے ڈیم بنائے جاسکتے ہیں۔
پنجاب کے بعد سیلابی ریلا سندھ کا رخ کریگا
شہباز شریف کا مزید کہنا تھا کہ پنجاب کے بعد سیلابی ریلا سندھ کا رخ کرے گا، ہماری دعا ہے کہ اس کی طغیانی میں کمی آئے ، یہ ایک چیلنج ہے، اس چیلنج سے ہمیں مل کر نمٹنا ہوگا، تباہ ہونے والی فصلوں کے مالکان کو نقصانات کا معاوضہ فوری ادا کرنے کا وزیر اعلیٰ پنجاب کا اعلان خوش آئند ہے۔
انہوں ںے کہا کہ گوردوارہ کرتارپور سے یاتریوں کے انخلاکےلئے وزیراعلیٰ پنجاب نے ہیلی کاپٹر بھجوانے کا حکم دیا تھا لیکن موسم کی خرابی کے باعث پھرکشتیوں کے ذریعے ان کے انخلا کو یقینی بنایا گیا۔گوردوارہ کرتار پور سکھ برادری کا مقدس مقام ہے، پانی کی فوری نکاسی کرنا ہوگی۔
نارووال سب سے زیادہ متاثر ہے، وزیراعلیٰ پنجاب
اس موقع پروزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف نے کہا کہ سیلاب زدہ علاقوں کا دورہ کرنے پر وزیراعظم کی شکر گزار ہوں، نارووال سیلاب سے سب سے زیادہ متاثرہ علاقوں میں شامل ہوتا ہے، تمام متعلقہ اداروں نے متاثرین کی مدد کےلئے فوری اقدامات اٹھائے۔
مریم نواز نے کہا کہ گزشتہ 40 سالوں میں مون سون کا ایسا طویل سلسلہ کبھی نہیں آیا،متواتر بارشوں اور بھارت کی طرف سے پانی چھوڑنے سے غیرمعمولی صورتحال پیدا ہوئی، یہ امر باعث اطمینان ہے یہ تمام اداروں نے مل کر بھرپور کام کیا ہے۔
نارووال کو آفت زدہ قرار دیا جائے، وفاقی وزیر احسن اقبال
وفاقی وزیر منصوبہ بندی ، ترقی و خصوصی اقدامات پروفیسر احسن اقبال نے کہا کہ ریسکیو اور ریلیف کی کوششوں کو مربوط اور تیز کرنے کی ضرورت ہے، نارووال دریائی طغیانی سے سب سےزیادہ متاثر ہوتا ہے، شاہراہوں کی بحالی کا کام فوری شروع کرنا ہوگا۔
انہوں نے مطالبہ کیا کہ نارووال کو آفت زدہ قرار دیا جائے،ہمیں اپنا بنیادی ڈھانچہ مضبوط کرکے سیلاب سے بچائو کے اقدامات کرنا ہوں گے،سیلاب زدہ علاقوں کا دورہ کرنے پر وزیراعظم اور وزیراعلیٰ پنجاب کا شکر گزارہوں۔
چیئرمین این ڈی ایم اے کی بریفنگ
چیئرمین این ڈی ایم اے لیفٹننٹ جنرل انعام حیدرملک نے بتایا کہ مغربی مون سون کا یہ سلسلہ میدانی علاقوں میں جاری ہے، بھارت کے غیر قانونی زیر تسلط جموں وکشمیر اور سیالکوٹ ریجن میں غیرمعمولی بارشوں سے دریائوں میں طغیانی آئی ہے۔
چیئرمین این ڈی ایم اے کا مزید کہنا تھا کہ مغربی دریا معمول کے بہائو پر ہیں ، مشرقی دریائوں میں سیلابی صورتحال ہے، خانکی اور قادرآباد میں پانی کا 10 لاکھ کیوسک کا ریلہ ہے، ہیڈ گنڈا سنگھ والا پر پانی کا بہائو زیادہ ہے۔