سیلاب کا خدشہ، سندھ حکومت نے وزرا کو فوکل پرسن مقرر کردیا، حلقے میں رہنے کی ہدایات

فہرستِ مضامین

کراچی ( ڈبلیو ٹی این )  پنجاب میں سیلاب سے تباہی کے بعد اور سندھ میں  سیلاب کے خدشات کے پیش نظر سندھ حکومت نے وزراء کو فوکل پرسن مقرر کردیا، وزیراعلیٰ سندھ کی منظوری کے بعد نوٹیفکیشن جاری کر گیا۔

سینئر وزیر شرجیل انعام میمن کے ترجمان کے مطابق  پنجاب میں جاری سیلابی صورتحال کے پیشِ نظر سندھ حکومت نے دریائے سندھ کے ساتھ موجود اضلاع میں ممکنہ خطرات کی نگرانی اور ان کا جائزہ لینے کے لیے صوبائی وزراء کو فوکل پرسن نامزد کیا ہے۔

وزیراعلیٰ سیکریٹریٹ سے جاری حکم نامے کے مطابق نامزد وزراء اپنے اپنے دائرۂ اختیار میں دریا کے دائیں اور بائیں کنارے کی نگرانی کریں گے۔گڈو سے سکھر تک کے علاقے کے لیے ایکسائز اینڈ ٹیکسیشن کے وزیر مکیش کمار چاؤلہ کو دائیں کنارے جبکہ زراعت، کھیل اور امورِ نوجوانان کے وزیر سردار محمد بخش مہر کو بائیں کنارے کا فوکل پرسن مقرر کیا گیا ہے۔

سکھر سے کوٹری تک کے لیے صنعت و تجارت کے وزیر جام اکرام اللہ خان دھاریجو دائیں کنارے جبکہ توانائی و منصوبہ بندی کے وزیر سید ناصر حسین شاہ بائیں کنارے کی نگرانی کریں گے۔

کوٹری سے نیچے کے علاقے میں مذہبی امور، زکوٰۃ و عشر کے وزیر ریاض حسین شاہ شیرازی کو دائیں کنارے جبکہ لائیو اسٹاک اور فشریز کے وزیر محمد علی ملکانی کو بائیں کنارے کا فوکل پرسن مقرر کیا گیا ہے۔

اراکین ایک ہفتہ حلقے میں موجود رہیں

نوٹیفکیشن میں مزید ہدایت کی گئی ہے کہ صوبائی اسمبلی کے تمام اراکین (ایم پی ایز) جو دریائے سندھ کے ساتھ موجود اضلاع سے تعلق رکھتے ہیں، وہ آئندہ ایک ہفتے کے لیے اپنے حلقوں میں موجود رہیں اور نامزد فوکل پرسنز سے قریبی رابطے میں رہیں۔

نامزد وزراء کو ہدایت دی گئی ہے کہ وہ محکمہ آبپاشی سندھ کے ساتھ مل کر سیلاب کے خطرات کا جائزہ لیں اور دریا کے پشتوں کے تحفظ اور نگرانی کے لیے ایم پی ایز کو شامل کریں۔

سندھ میں سیلاب کا خدشہ

بدھ کے روز این ڈی ایم اے کے چئیرمین لیفٹیننٹ جنرل انعام حیدر ملک نے افواج پاکستان کے ترجمان لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چودھری اور وفاقی وزیر عطا تارڑ کی ساتھ پریس کانفرنس میں سندھ میں بھی سیلاب کا خدشہ ظاہر کیا تھا۔

چیئرمین این ڈی ایم اے کا کہنا تھا کہ 29 اگست سے 9 ستمبر تک مون سون کا آخری سپیل آئے گا جس میں انھی علاقوں میں دوبارہ بارشیں ہونے کی توقع ہے جس کے لیے تمام الرٹس متعلقہ اداروں کے ساتھ شیئر کیے جاچکے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ آنے والے دنوں میں ہم سندھ حکومت کے ساتھ بھی معلومات شیئر کریں گے کہ کوٹری یا گدو بیراج پر جو دباؤ آئے گا اور اسی طرح وہ علاقے جن میں انخلا کی ضرورت ہوگی، وہ ڈیٹا پی ڈی ایم اے سندھ کے ساتھ بھی شیئر کیا گیا ہے۔

دریائے سندھ میں اونچے درجے کے سیلاب کی وارننگ

دوسری جانب فلڈ فور کاسٹنگ ڈویزن نے ملک کے بڑے دریاؤ کے  بالائی علاقوں میں 31 اگست تک شدید بارش کا امکان ظاہر کردیا ہے، ساتھ ہی دریائے سندھ میں اونچے درجے کے سیلاب کی وارننگ بھی جاری کردی گئی ہے۔

فلڈ فور کاسٹنگ ڈویزن کے مطابق 29 اگست سے ملک کے بڑے دریاؤں کے بالائی علاقوں میں بارش جبکہ 31 اگست سے شدید بارش کا امکان ہے، دریائےسندھ میں گدو اورسکھر پر 4 سے 5 ستمبر تک اونچے درجے کے سیلاب کا خدشہ ہے۔

پانی کی صورتحال

گڈو بیراج پر بدھ کے روز پانی کے بہاؤ میں ایک ہزار کیوسک اضافہ رکارڈ کیا گیا تھا، گڈو بیراج پر بالائی بہاؤ 3 لاکھ 12 ہزار 40 کیوسک اور زیریں بہاؤ 2 لاکھ 80 ہزار 263 کیوسک ریکارڈ کیا گیا ہے۔

سکھر بیراج پر گزشتہ 24 گھنٹوں میں پانی کی سطح میں تقریباً 90 ہزار کیوسک کا اضافہ ریکارڈ ہوا، سکھر بیراج پر پانی کا بالائی بہاؤ 3 لاکھ 49 ہزار 50 کیوسک اور نیچے زیریں بہاؤ 2 لاکھ 96 ہزار 820 کیوسک ریکارڈ کیا گیا ہے۔

کوٹری بیراج پر گزشتہ 24 گھنٹوں میں 7 ہزار کیوسک پانی کی اضافہ کے بعد پانی کا بالائی بہاؤ 2 لاکھ 36 ہزار 725 کیوسک اور زیریں بہاؤ 2 لاکھ 11 ہزار 870 کیوسک ریکارڈ کیا گیا ہے۔

مزید خبریں

مقبول ترین خبریں