سیلاب کا پانی سندھ میں داخل ہوگا، تشویش ناک صورتحال نہیں، صوبائی وزراء کی پریس کانفرنس

فہرستِ مضامین

سکھر ( رپورٹ: حیدر میرانی ) سندھ کے صوبائی وزیر ناصر حسین شاہ نے کہا ہے کہ سیلابی صورتحال کے حوالے سے سندھ حکومت نے تیاریاں مکمل کرلی ہیں،اگر بارشیں ہوئیں اور بھارت نے پانی چھوڑا تو پریشانی ہوسکتی ہے۔

سندھ کے صوبائی وزراء سید ناصر حسین شاہ اور جام خان شورو نے سکھر بیراج پر پریس کانفرنس کرتے ہوئے بتایا کہ پنجاب میں سیلاب نے بڑی تباہی مچائی ہے، جبکہ سندھ حکومت نے ہر ممکن تیاری مکمل کرلی ہے۔

 وزراء کے مطابق بھارت نے ایک ہی وقت میں 9 لاکھ کیوسک پانی چھوڑا، جس کے باعث پنجاب میں صورتحال سنگین ہوگئی ہے اور اب یہ پانی دریائے سندھ کے ذریعے سندھ میں داخل ہوگا۔

ناصر حسین شاہ نے کہا کہ پنجاب حکومت اپنی بساط کے مطابق کام کر رہی ہے، جبکہ سندھ حکومت بھی وزیراعلیٰ سید مراد علی شاہ کی ہدایت پر مکمل تیاری میں ہے۔ وزیراعلیٰ نے تینوں بیراجوں کے لیے فوکل پرسن مقرر کیے ہیں، جن میں وہ خود (ناصر حسین شاہ)، جام اکرام دھاریجو، سردار محمد بخش مہر اور دیگر شامل ہیں۔

سندھ میں فی الحال کوئی تشویشناک صورتحال نہیں

ناصر شاہ نے بتایا کہ کمشنر سکھر کی جانب سے ایس او پیز تیار کیے گئے ہیں اور بندوں (دریائی پشتوں) کو مضبوط بنانے کا کام پہلے ہی مکمل کر لیا گیا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ سندھ میں فی الحال کوئی تشویشناک صورتحال نہیں ہے، لیکن اس کے باوجود احتیاطی اقدامات کیے گئے ہیں تاکہ کسی بھی ہنگامی صورتِ حال میں عوام کو نقصان نہ پہنچے۔

ناصر حسین شاہ کا مزید کہنا تھا کہ 7 لاکھ کیوسک پانی آنے کی وجہ سے کچے کے علاقوں سے نقل مکانی شروع ہو جائے گی، جس کے لیے تمام انتظامات مکمل کر لیے گئے ہیں۔

کالاباغ ڈیم متنازع منصوبہ ہے

کالاباغ ڈیم کے حوالے سے ایک سوال کے جواب میں ناصر شاہ نے کہا کہ یہ ایک متنازع منصوبہ ہے جسے تینوں صوبے پہلے ہی مسترد کر چکے ہیں۔ “جو لوگ کالاباغ ڈیم کی بات کرتے ہیں، وہ ملک میں تنازع پیدا کرنا چاہتے ہیں، حالانکہ اس وقت ملک کو اتحاد و یکجہتی کی ضرورت ہے۔”

 انہوں نے کہا کہ دیگر ڈیموں پر کام کرنے سے کسی نے منع نہیں کیا، لیکن سیاسی شعبدہ بازی سے عوام کو تقسیم کیا جا رہا ہے۔

سکھر بئراج میں 9 لاکھ کیوسک سے زائد پانی کی گنجائش

اس موقع پر وزیر آبپاشی جام خان شورو نے کہا کہ سکھر بیراج میں 9 لاکھ کیوسک سے زائد پانی کی گنجائش موجود ہے اور بیراج کے اسٹرکچر کی مانیٹرنگ ایک تیسری فریق بھی کر رہی ہے، جبکہ آئندہ سال اس کا دوبارہ جائزہ لیا جائے گا۔

انہوں نے بتایا کہ دریائے چناب میں اچانک 2 لاکھ کیوسک سے 9 لاکھ کیوسک پانی آگیا، جس سے پنجاب میں تباہی مچ گئی۔ قادرآباد کے مقام پر 10 لاکھ کیوسک پانی آیا، حالانکہ بیراج کی گنجائش صرف 8 لاکھ تھی، لیکن اسے بچا لیا گیا۔

انہوں نے کہا کہ تَمن بئراج پر جمعے کے دن پانی پہنچ جائے گا، جبکہ دریائے راوی اور ستلج کا پانی پنجند کے مقام پر جمع ہوگا۔ “پانی کی لہریں سندھ میں داخل ہونے میں کچھ دن لگیں گے، لیکن ہماری کوشش ہے کہ تمام اقدامات بروقت کیے جائیں۔”

دونوں وزراء نے کہا کہ سندھ کے متاثرہ علاقوں میں امدادی سامان پہنچانے کا کام جاری ہے اور حکومت کی پوری کوشش ہے کہ کسی بھی متاثرہ شخص کو تنہا نہ چھوڑا جائے۔ “خدا نخواستہ اگر مزید بارشیں ہوئیں تو اس کا بھی بھرپور مقابلہ کیا جائے گا۔

مزید خبریں

مقبول ترین خبریں