کراچی کے علاقے ڈیفنس میں قتل ہونے والے سینئر وکیل خواجہ شمس الاسلام کے مبینہ ملزم عمران آفریدی نے ایک ویڈیو بیان میں قتل کا اعتراف کرلیا، پولیس حکام کے مطابق خواجہ شمس الاسلام کے قتل کا مقدمہ درخشاں تھانے میں درج کر لیا گیا ہے، واقعے کی تحقیقات کے لیے 6 ركنی کمیٹی بھی تشکیل دیدی گئی ہے۔
سوشل میڈیا پر وائرل ویڈیو بیان کے مطابق مبینہ ملزم عمران آفریدی کا ایک وڈیو بیان سوشل میڈیا پر وائرل ہو رہا ہے، جس میں وہ قتل کا اعتراف کر لیا، ملزم نے وڈیو بیان میں الزام عائد کیا ہے کہ شمس الاسلام نے میرے والد کو اغواء کر کے بدترین تشدد کا نشانہ بنایا اور انہیں قتل کردیا، وکیل اور میرے والد کے درمیان 35 لاکھ روپے کا لین دین تھا جو ماضی میں تنازع کی بنیاد بنا تھا۔
والد کے قتل کا بدلا لیا ہے
عمران آفریدی نے ویڈیو بیان میں الزام عائد کیا، ’ناصرف اس کے والد کو قتل کیا گیا بلکہ اس کے بعد ان کے خاندان کو جھوٹے مقدمات میں الجھایا گیا، شمس الاسلام نے میرے بھائیوں پر دہشتگردی کے جھوٹے مقدمات بنوائے اور ہماری خواتین کو بھی قانونی پیچیدگیوں میں گھسیٹا حالانکہ خواتین کا ان معاملات سے کوئی تعلق نہیں تھا۔‘
ملزم عمران کا کہنا تھا کہ ’مجھے قانونی نظام سے انصاف نہیں ملا جس کی وجہ سے میں نے خود بدلہ لینے کا فیصلہ کیا، قتل میں نے اکیلے کیا، میرے کسی عزیز، دوست یا رشتہ دار کا اس جرم سے کوئی تعلق نہیں ہے، پولیس اور قانون نافذ کرنے والے ادارے میرے خاندان یا دوستوں کو تنگ نہ کریں۔‘
شمس الاسلام کے قتل کا مقدمہ درج
دوسری جانب پولیس نے سینئر وکیل خواجہ شمس الاسلام کے قتل کا مقدمہ ان کے بھائی کی مدعیت میں درخشاں تھانے میں درج کر لیا گیا، مقدمے میں دہشت گردی، قتل سمیت دیگر دفعات شامل کی گئی ہیں۔
ایف آئی آر کے مطابق گزشتہ روز کراچی کے پوش علاقے خیابانِ راحت میں ایک اکیڈمی کے باہر خواجہ شمس الاسلام کو اِس وقت فائرنگ کر کے قتل کر دیا گیا جب وہ اپنے بیٹے دانیال الاسلام کے ہمراہ نمازِ جنازہ میں شرکت کے بعد مسجد سے باہر نکل رہے تھے۔
تحیقات کے لیے 6 رکنی کمیٹی قائم
پولیس کے مطابق قتل کی تحقیقات کے لیے ایس ایس پی سپرنٹنڈنٹ آف پولیس سائوتھ کی سربراہی میں 6 رکنی کمیٹی قائم کردی گئی ہے، ایس پی کلفٹن، ڈپٹی سپرنٹنڈنٹ آف پولیس (ڈی ایس پی) کیماڑی اور ڈی ایس پی انویسٹی گیشن کلفٹن، اسٹیشن ہاؤس افسر (ایس ایچ او) درخشاں اور تفتیشی افسر بھی کمیٹی کے رکن ہیں۔
یہ 6 ركنی کمیٹی وکیل شمس الاسلام قتل کیس کی تحقیقات کرے گی، کمیٹی حملہ آور کی گرفتاری سے لے کر سزا دلوانے تک کیس پر کام کرے گی۔ڈی آئی جی جنوبی اسد رضا نے تحقیقاتی کمیٹی کے قیام کا نوٹی فکیشن جاری کر دیا ہے۔
واضح رہے کہ یکم اگست کو کراچی کے علاقے ڈیفنس فیز 6 میں سینئر وکیل خواجہ شمس الاسلام کو گھات لگائے ملزم نے نماز کی ادائیگی کے بعد مسجد سے باہر نکلتے ہوئے فائرنگ کا نشانہ بنایا تھا، واقعے میں مقتول کے بیٹے سمیت 2 افراد زخمی بھی ہوئے تھے۔