
آرمی چیف فیلڈ مارشل عاصم منیر نے بھارت کی جانب سے دہشت گرد تنظیموں کی پشت پناہی کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ بھارت ’معرکۂ حق‘ میں شکست کے بعد اب اپنی مذموم سازشوں کے لیے پراکسی وار کو بڑھا رہا ہے۔
آئی ایس پی آرکے مطابق آرمی چیف نے ان خیالات کا اظہار 16ویں نیشنل ورکشاپ بلوچستان کے شرکا سے خطاب میں کیا۔
فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے کہا کہ فتنتہ الخوارج اور فتنتہ الہندوستان بھارت کی ناکام پراکسیز ہیں، پاکستان علاقائی امن کے لیے پرعزم مگر ہر خطرے کا بھرپور جواب دینے کو تیار ہے۔
آئی ایس پی آر کے مطابق فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے قومی یکجہتی اور بلوچستان کی ترقی پر زور دیتے ہوئے بھارت کی پراکسی جنگ کی مذمت کی اور بلوچستان کی ترقی پر زور دیا۔

آرمی چیف نے دہشت گردی کے خاتمے کے لیے پاک فوج کے غیر متزلزل عزم کا اظہار کرتے ہوئے بلوچستان کی سماجی و اقتصادی ترقی کی ناگزیر اہمیت کو قومی یکجہتی و استحکام کے لیے لازمی قرار دیا۔ انہوں نے بھارت کی جانب سے دہشت گرد گروہوں کی کھلم کھلا سرپرستی کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کہا کہ یہ ایک ناکام کوشش ہے جو بلوچستان کے عوام کی گہری حب الوطنی کو نشانہ بنانے کے لیے کی جا رہی ہے۔
تمام خطرات کا منہ توڑ جواب دینے کے لیے تیار ہیں: فیلڈ مارشل
فیلڈ مارشل عاصم منیر نے بھارت کی جانب سے دہشت گرد عناصر کی سرپرستی کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ بھارت “معرکہ حق” میں شکست سے دوچار ہو چکا ہے، بھارت دہشت گرد گروہوں کے ذریعے ہائبرڈ جنگ کو فروغ دے رہا ہے، یہ گروہ بھی معرکہ حق میں بھارت کی ذلت آمیز شکست جیسا ہی انجام پائیں گے۔
آرمی چیف نے ’فتنتہ الخوارج‘ اور ’فتنتہ الہندوستان‘ کو بھارت کی ہائبرڈ وار کے مہرے قرار دیا۔
فیلڈ مارشل عاصم منیر نے زور دے کر کہا کہ دہشت گرد کسی مذہب، مسلک یا قومیت کی حدود کے پابند نہیں ہوتے، اس لیے ان کے خلاف قومی سطح پر یکجہتی اور اجتماعی عزم ناگزیر ہے۔
انہوں نے بلوچستان میں ترقیاتی منصوبوں کی اہمیت کو اجاگر کیا اور مختلف اداروں کے مابین مؤثر ہم آہنگی اور قومی سطح پر مشترکہ حکمت عملی اپنانے پر زور دیا تاکہ صوبے کی ترقی اور ملکی خوشحالی کو فروغ دیا جا سکے۔
آرمی چیف نے علاقائی امن کے لیے پاکستان کے عزم کا اعادہ کرتے ہوئے کہا کہ ملک کو درپیش اندرونی یا بیرونی خطرات کا منہ توڑ جواب دینے کے لیے پاک فوج ہر دم تیار ہے تاکہ قومی وقار کا تحفظ اور عوام کی سلامتی یقینی بنائی جا سکے۔
نشست کے اختتام پر آرمی چیف اور شرکا کے مابین ایک کھلا اور بصیرت افروز مکالمہ بھی ہوا۔
