صحافی ای ڈی شر کیس: ورثاء کا تحقیقاتی افسر کے خلاف دھرنا، سنگین الزامات

فہرستِ مضامین

رپورٹ: بشیر شر، ٹھری میرواہ

سندھ کے ضلع خیرپور کے تحصیل ٹھری میرواہ میں 4 ماہ قبل قتل ہونے والے صحافی ای ڈی شر کے قاتلوں کی گرفتاری اور تحقیقاتی افسر کے خلاف مقتول صحافی کے ورثاء اور سول سوسائٹی کی جانب سے ریلی نکالی گئی ہے۔

یاد رہے کہ 8 اور 9 اپریل کی درمیانی شب ٹھری میرواہ کے صحافی الھڈنوں عرف ای ڈی شر کو کلہاڑیوں کے وار کرکے قتل کیا گیا تھا، ان کی لاش گاؤں علی آباد سے برآمد ہوئی تھی۔

پولیس نے قتل کے الزام میں ریاض بادامانی، وقاص چنہ، فہیم چنہ، احد چنہ، نعیم چنہ اور آصف دستی کو گرفتار کرکے ایف آئی آر درج کی تھی جبکہ ملزمان ڈسٹرکٹ جیل میں ہیں۔

تحقیقاتی افسر کی رپورٹ کیا ہے؟ اعتراض کس بات پر؟

ڈی آئی جی سکھر نے صحافی کے قتل کیس کی تفتیش کسی تیسرے ضلع کے افسر سے کرانے کا فیصلہ کرتے ہوئے ڈی ایس پی گھوٹکی عبدالقادر چاچڑ کو تفتیشی افسر مقرر کیا تھا، جنہوں نے فریقین کے بیانات سننے کے بعد رپورٹ ڈی آئی جی کو بھیجی تھی۔

ڈی ایس پی عبدالقادر چاچڑ نے اپنی رپورٹ میں محمد منصور اعوان اور قمر ایوب اعوان کو بےگناہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ ان نوجوانوں کی ریاض بادامی اور دیگر ملزمان سے فون پر بات چیت ثابت نہیں ہوئی، اس لیے انہیں تفتیش میں بےگناہ قرار دیا جا رہا ہے۔

صحافی ای ڈی شر کے ورثاء نے تفتیشی افسر کی رپورٹ کو مسترد کرتے ہوئے ان پر رشوت لینے کے الزامات لگائے ہیں،  ستار شر، منصور شر اور دیگر نے آج کی ریلی سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ تفتیشی افسر عبدالقادر چاچڑ کیس خراب کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔

ورثاء کے مطابق افسر نے مرکزی ملزم منصور اعوان کا نام تفتیش سے نکال دیا ہے۔ ڈی ایس پی عبدالقادر چاچڑ ہم سے ایک بار بھی نہیں ملے، چار ماہ گزرنے کے باوجود پولیس کیس میں کوئی پیش رفت نہیں کر سکی، ملزمان آزاد گھوم رہے ہیں۔

ملزمان عدالت سے ضمانت پر رہا

صحافی ای ڈی شر قتل کیس کے تفتیشی افسر ڈی ایس پی عبدالقادر چاچڑ کی رپورٹ کے بعد ملزمان منصور اعوان اور قمر ایوب اعوان مقامی عدالت سے ضمانت پر رہا ہوگئے تھے۔

مقتول صحافی کے ورثاء نے الزام لگایا ہے کہ جن ملزمان کو تفتیشی افسر کیس سے بری کر رہے ہیں ان کے ویڈیو بیانات سوشل میڈیا پر موجود ہیں، جن میں وہ جرم کا اعتراف بھی کر رہے ہیں۔ تاہم WTN آزاد ذرائع سے ان ویڈیوز کی تصدیق نہ کر سکا۔

دوسری جانب ڈی ایس پی عبدالقادر چاچڑ سے رابطے کی کوشش کی گئی لیکن رابطہ نہ ہوسکا۔

مقتول کی بیوہ کا پیدل مارچ اور قرآن اٹھا کر مطالبہ

اس سے قبل مقتول صحافی کی بیوہ شاہانہ شر اپنی چار یتیم بیٹیوں اور مقتول کی والدہ نظیراں شر کے ساتھ 8 کلومیٹر پیدل مارچ کرتے ہوئے گاؤں بڈھل پور سے ٹھری میرواہ سرکاری اسپتال کے قریب پہنچی تھیں، جہاں انہوں نے ایس ایچ او کی گاڑی روک کر قرآن پاک کا واسطہ دیتے ہوئے قاتلوں کی جلد گرفتاری کا مطالبہ کیا تھا۔

مقتول کی بیوہ نے کہا تھا کہ میرے شوہر کے قتل میں اس کے صحافی دوست نیاز دستي، منصور اعوان اور شکور ملاح ملوث ہیں، جو اسے پہلے بھی دھمکیاں دیتے تھے۔

مزید خبریں

مقبول ترین خبریں