اسلام آباد ( ویب نیوز ) پاکستان تحریک انصاف قومی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر سمیت اہم عہدوں سے محروم ہوگئی، قومی اسمبلی سیکریٹریٹ نے ایوان میں اپوزیشن لیڈر کا عھدہ خالی قرار دیگر نوٹی فیکشن جاری کردیا۔
سابق وزیر اعظم عمران خان کی رہائی کے لیے ملک گیر احتجاج کی تاریخ جیسے جیسے قریب آ رہی ہے، ویسے ویسے پاکستان تحریک انصاف کو دھچکے ملنے کا عمل تیز تر ہوتا نظر آ رہا ہے۔
عمران خان توشہ خانہ کے تحائف سے متعلق کیس میں 5 اگست 2023 سے جیل میں ہیں اور 190 ملین پاؤنڈ کرپشن کیس میں سزا کاٹ رہے ہیں، ان پر 9 مئی 2023 کے پرتشدد واقعات کے سلسلے میں دہشت گردی کے الزامات کے تحت دیگر مقدمات بھی زیرِ التوا ہیں۔
پی ٹی آئی سابق وزیراعظم عمران خان کی رہائی کے لیے جہاں سڑکوں پر سراپا احتجاج ہے، وہیں ان کے اراکین اسمبلی اور سینیٹرز ایوان میں بھی آواز بلند کرتے رہے ہیں۔
ایک طرف پی ٹی آئی رہنماوں کو عدالتوں سے سزائیں سنائی گئی ہیں تو دوسری جانب ان کے اراکین اسمبلی اہم عہدوں سے بھی محروم ہوگئے ہیں۔
اپوزیشن لیڈر کی کرسی خالی
ذرائع کے مطابق قومی اسمبلی میں عمر ایوب اپوزیشن لیڈر کے عہدے سے فارغ کردیے گئے ہیں، قومی اسمبلی سیکریٹریٹ نے ایوان میں اپوزیشن لیڈر کا عھدہ خالی قرار دیگر نوٹی فیکشن جاری کردیا ہے۔
اسی طرح زرتاج گل کا پارلیمانی لیڈر اور احمد چٹھہ کا ڈپٹی پارلیمانی لیڈر کا عہدہ بھی خالی ہوگیا ہے، پی ٹی آئی سے اپوزیشن لیڈر کا چیمبر بھی واپس لے لیا گیا ہے۔

اسپیکر قومی اسمبلی نے اسمبلی قواعد کے مطابق ارکان کی نااہلیت سے ایوان کو آگاہ کردیا ہے، جس کے بعد اپوزیشن لیڈر کے لیے اپوزیشن اور اسپیکر کے درمیان مشاورت کا عمل دوبارہ شروع ہوگا۔
اسپیکر قومی اسمبلی مشاورت مکمل ہونے کے بعد نئے اپوزیشن لیڈر کا نوٹیفیکیشن جاری کریں گے، پی ٹی آئی آزاد اراکین پارلیمانی لیڈراور ڈپٹی پارلیمانی لیڈر کے لیے دوبارہ نام دینا ہوں گے۔
قائمہ کمیٹیوں کی رکنیت بھی واپس
قومی اسمبلی میں عمر ایوب کو پبلک اکاؤنٹس کمیٹی فنانس کمیٹی سے بھی ڈی لسٹ کردیا گیا ہے۔ پی ٹی آئی کے نااہل 7 ارکان سے قائمہ کمیٹی کی ممبر شپ بھی واپس لے لی گئی ہے
پی ٹی آئی کے 7ارکین اسمبلی سے 15قائمہ کمیٹیوں کی رکنیت بھی واپس لے لی گئی ہے، جس کے مطابق صاحبزادہ حامد رضا کی قائمہ کمیٹی انسانی حقوق کی چیئرمین شپ ختم کردی گئی ہے۔ اسی طرح زرتاج گل قائمہ کمیٹی انسانی حقوق کی رکنیت سے ہاتھ دھو بیٹھی ہیں جب کہ رائے حسن نواز سے قائمہ کمیٹی ریلوے کی چیئرمین شپ واپس لی گئی ہے۔
پی ٹی آئی رہنماوں کو سزائیں

فیصل آباد کی انسداد دہشت گردی کی ایک عدالت نے نو مئی کے واقعات سے متعلق ایک کیس کا فیصلہ سُناتے ہوئے پاکستان تحریک انصاف کے مرکزی رہنماؤں سمیت 108 کارکنوں کو قید کی سزائیں سنائی تھی۔
عدالت کی طرف سے سنائے گئے فیصلے میں قومی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر عمر ایوب، قومی اسمبلی میں پاکستان تحریک انصاف کی پارلیمانی لیڈر زرتاج گل اور سینیٹ میں پی ٹی آئی کے پارلیمانی لیڈر شبلی فراز کو دس، دس سال قید کی سزا سنائی گئی ہیں جبکہ سُنی اتحاد کونسل کے چیئرمین حامد رضا کو بھی 10 سال قید کی سزا سنائی گئی ہیں۔
یہ فیصلہ نو مئی 2023 کو فیصل آباد میں واقع ایک حساس ادارے کے دفتر پر حملے کے کیس میں سنایا گیا ہے جس میں 185 ملزمان کو نامزد کیا گیا تھا جن میں سے 108 ملزمان کو مجرم قرار دیتے ہوئے سزائیں دی گئیں۔ اس سے قبل 22 جولائی کو سرگودھا اور لاہور کی عدالتوں سے سامنے آنے والے فیصلوں میں پی ٹی آئی کے پنجاب اسمبلی میں حزب اختلاف کے قائد احمد خان بچھر، رُکن قومی اسمبلی احمد چٹھہ اور سابق وزرا یاسمین راشد، میاں محمود الرشید، سینیٹر اعجاز چوہدری اور سابق گورنر پنجاب عمر سرفراز چیمہ سمیت دیگر مرکزی رہنماؤں کو سزائیں سُنائی گئی تھیں۔