عمران خان کی ضمنی انتخابات نہ لڑنے اور پارلیامانی کمیٹیوں سے مسعفی ہونے کی ہدایات

فہرستِ مضامین

راولپنڈی ( ڈبلیو ٹی این مانیٹرنگ ) پی ٹی آئی کے بانی اور سابق وزیراعظم  عمران خان نے پارٹی کے تمام ارکانِ اسمبلی کو پارلیامانی کمیٹیوں سے مستعفی ہونے کی ہدایت کردی ہے، اس بات کی تصدیق عمران خان کی بہن علیمہ خان نے منگل کے روز اڈیالا جیل کے باہر میڈیا سے گفتگو میں کی۔

اڈیالا جیل کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے علیمہ خان نے بتایا کہ عمران خان نے پی ٹی آئی ارکانِ اسمبلی کو پارلیمانی کمیٹیوں سے مستعفی ہونے کی ہدایت کی ہے، اور یہ بھی کہا ہے کہ سیاسی کمیٹی کی جانب سے ضمنی انتخابات کے بارے میں کیے جانے والے فیصلے سے انہیں بدھ  کے روز آگاہ کیا جائے۔

سلمان اکرم راجہ سے مبینہ تلخ کلامی

علیمہ خان نے پی ٹی آئی کے سیکریٹری جنرل سلمان اکرم راجہ کے ساتھ مبینہ تلخ کلامی اور اس کے نتیجے میں ان کے استعفے کی خبروں کو مسترد کیا اور کہا کہ پارٹی کو ضمنی انتخابات میں شرکت کے فیصلے پر سوالات اٹھانے چاہئیں۔

اس سے قبل پاکستان تحریک انصاف میں حالیہ نااہلیوں کے نتیجے میں قومی اور صوبائی اسمبلیوں کی خالی ہونے والی نشستوں پر ہونے والے ضمنی انتخابات میں حصہ لینے پر اختلاف کی خبریں عام تھیں۔

پی ٹی آئی کی سیاسی کمیٹی کے پیر کے روز ہونے والے اجلاس میں اکثریتی ارکان نے ضمنی انتخابات کے بائیکاٹ کے بجائے حصہ لینے کے حق میں ووٹ دیا، تاہم  عمران خان نے پارٹی ارکان کو پیغام بھیجا تھا کہ ضمنی انتخابات میں حصہ نہیں لینا چاہیے تاکہ اس انتخابی عمل کو “جائز” نہ سمجھا جائے۔

پی ٹی آئی کے مرکزی سیکریٹری اطلاعات شیخ وقاص اکرم نے سوشل میڈیا پر پارٹی کے اس فیصلے کا اعلان کیا، جس پر دنیا بھر سے تنقید کا ایک طوفان اٹھ کھڑا ہوا۔ وقاص اکرم نے اس بات کی تصدیق کی کہ وہ، سلمان اکرم راجہ اور چند دیگر افراد اس فیصلے کے خلاف تھے، مگر اکثریت کی رائے کو تسلیم کرتے ہوئے فیصلہ ماننا پڑا۔

سلمان اکرم راجا کا مستعفی ہونے کا اعلان

تاہم، حالات نے ڈرامائی موڑ اس وقت لیا جب سلمان اکرم راجہ نے سیکریٹری جنرل کے عہدے سے مستعفی ہونے کا اعلان کر دیا۔ اگرچہ انہوں نے کوئی خاص وجہ بیان نہیں کی، لیکن ان کی سوشل میڈیا پوسٹ کے وقت سے اندازہ ہوتا ہے کہ سیاسی کمیٹی کا ضمنی انتخابات میں حصہ لینے کا فیصلہ ہی ان کے استعفے کی اصل وجہ تھا۔۔

جب میڈیا نے علیمہ خان سے سوال کیا کہ کیا ان کی سلمان راجہ سے تلخ کلامی اس فیصلے کا باعث بنی، تو انہوں نے تردید کی اور کہا کہ  سلمان اکرم راجہ وہ ہمارے وکیل ہیں اور سب کے لیے گھر کے فرد کی طرح ہیں۔ یہ زیادہ تر ان کا ذاتی فیصلہ اور سیاسی کمیٹی کا معاملہ لگتا ہے۔

عمران خان کی دوسری بہن، عظمیٰ خان نے گفتگو میں مداخلت کرتے ہوئے کہا کہپارٹی بتائے گی کہ اصل اختلاف کیا تھا، ہماری آخری فیملی میٹنگ کے مطابق خان صاحب نے سختی سے، بار بار اور واضح طور پر کہا کہ ان انتخابات میں حصہ نہ لیا جائے۔

عظمی خان کے مطابق عمران خان نے کہ کہ ضمنی انتخابات کا مکمل بائیکاٹ کیا جائے کیونکہ ان میں کوئی فائدہ نہیں، اس سے پارٹی کو نقصان ہو گا، اور حقیقی آزادی کی تحریک کو دھچکا لگے گا، نیز یہ غیرقانونی نااہلیاں جائز قرار دے دی جائیں گی۔

عمران خان نے استعفیٰ منظور نہیں کیا

دوسری طرف، سلمان اکرم راجہ نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا کہ عمران خان نے ان کا استعفیٰ منظور نہیں کیا، انہوں نے بتایا کہ سیاسی کمیٹی کا اجلاس دوبارہ ہو گا تاکہ عمران خان کی ہدایات کی روشنی میں ضمنی انتخابات میں شرکت کے فیصلے پر غور کیا جا سکے۔

سلمان اکرم راجہ نے مزید کہا کہ پی ٹی آئی کا موقف واضح ہے کہ عمر ایوب اور شبلی فراز اب بھی قومی اسمبلی اور سینیٹ میں اپوزیشن لیڈر ہیں، اور وہ اپنے مقدمات لڑ رہے ہیں اور تمام قانونی تقاضے پورے کریں گے۔

انہوں نے کہا کہ اگر ان کے بعد کسی نئے اپوزیشن لیڈر کی ضرورت پڑی تو عمران خان نے آج جس نام کا بار بار ذکر کیا، وہ محمود خان اچکزئی ہے۔

ادھر پی ٹی آئی کے چیئرمین بیرسٹر گوہر نے کہا کہ انہوں نے سلمان اکرم راجہ کا استعفیٰ نہ تو پڑھا ہے اور نہ ہی انہیں کوئی تحریری استعفیٰ موصول ہوا ہے، یہ فیصلہ عمران خان کریں گے کہ وہ عہدہ چھوڑتے ہیں یا نہیں۔

بیرسٹر گوہر کے مطابق  بدقسمتی سے پارٹی کے اندر سے کچھ نہ کچھ نکل آتا ہے اور وہ مسئلہ بن جاتا ہے۔ عمران نے واضح کہا ہے کہ کوئی بھی پارٹی رہنما اپنا استعفیٰ عوامی طور پر بیان نہیں کرے گا۔

ارکان کی نااھلی

9 مئی کے مقدمات میں عدالتوں سے سزا ملنے کے بعد قومی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر عمر ایوب اور سینیٹ میں قائد حزب اختلاف شبلی فراز کو نااہل قرار دیا گیا تھا، جن کے بعد ان کی نشتیں بھی خالی قرار دی گئی تھیں۔

تاہم پی ٹی آئی نے اپنے اہم اپوزیشن رہنماؤں کی نشستیں ختم کیے جانے کے خلاف حکم امتناع حاصل کر رکھا ہے ساتھ ہی ساتھ پارٹی نے قانونی کارروائی کرتے ہوئے عارضی طور پر نئی نامزدگیاں بھی کی ہیں۔

مزید خبریں

مقبول ترین خبریں