غزہ کی جانب امید کا سفر، اسرائیلی جارحیت کی زد میں ، صمود فلوٹیلا پر حملہ، سابق سینیٹر مشتاق احمد خان سمیت 200 سے زائد امدادی کارکنا ن  گرفتار

فہرستِ مضامین

غزہ کے ساحل پر بیٹھے معصوم فلسطینی بچے صمود فلوٹیلا کا انتظار کرتے رہ گئےاور رات کی تاریکی میں اسرائیلی فوج نے 40 سے زائد کشتیوں پر مشتمل گلوبل صمودفلوٹیلا کو گھیرے میں لیا اور کئی کشتیوں پر پانی کی توپیں چلائیں۔فلوٹیلا منتظمین کے مطابق اسرائیلی فوجی ایک جہاز میں داخل ہوئے اور جہاز پر سوار تمام ارکان کو حراست میں لے لیا۔

گلوبل صمود فلوٹیلا کیا ہے؟

جولائی 2025 میں ترکی کے ساحل سے روانہ ہونے والا “گلوبل صمود فلوٹیلا” اب تک کا سب سے بڑا شہری بحری مشن تھا، جس کا مقصد اسرائیل کے غیر قانونی محاصرے کو توڑ کر غزہ کے مظلوم عوام تک انسانی امداد پہنچانا تھا۔ اس مشن میں 44 ممالک سے 500 سے زائد افراد شامل تھے، جن میں ڈاکٹرز، وکلاء، فنکار، ماہی گیر، اراکین پارلیمنٹ، اور انسانی حقوق کے کارکن شامل تھے۔ مشن میں شامل شخصیات میں سویڈن کی معروف ماحولیاتی کارکن گریٹا تھنبرگ، اقوام متحدہ کے سابق نمائندے پروفیسر رچرڈ فالک، اور کولمبیا کے صدر گوستاو پیٹرو بھی شامل تھے۔ پاکستان کی نمائندگی جماعت اسلامی کےسابق سینیٹر مشتاق احمد خان کر رہے تھے، جنہوں نے روانگی سے قبل اپنے ویڈیو پیغام میں کہا، “ہم موت سے آگے اور موت ہمارے پیچھے ہے، الحمدللہ ہم اللہ کی مدد سے غزہ پہنچ کے رہیں گے۔”

مشتاق احمد خان کون ہیں ؟

مشتاق احمد خان خیبر پختونخوا سے تعلق رکھنے والے ایک سرگرم سیاستدان ہیں، جنہوں نے 2018 سے 2024 تک سینیٹ میں خدمات انجام دیں۔ وہ جماعت اسلامی کے نظریاتی اور عوامی خدمت کے جذبے سے سرشار رہنما سمجھے جاتے ہیں۔ سینیٹ میں اپنی مدت کے دوران انہوں نے فلسطین، کشمیر، اور انسانی حقوق کے مسائل پر بھرپور آواز بلند کی۔ ان کی تقاریر میں ہمیشہ مظلوموں کے حق میں عالمی ضمیر کو جھنجھوڑنے کی کوشش کی گئی۔ فوٹیلا میں ان کی شرکت نہ صرف ایک علامتی اقدام تھی بلکہ پاکستان کی طرف سے فلسطینی عوام کے ساتھ عملی یکجہتی کا اظہار بھی تھا۔

پاکستان میں غزہ اور فلسطین کے حق میں جدوجہد

پاکستان میں غزہ کے حوالے سے عوامی سطح پر بھی گہری ہمدردی اور حمایت پائی جاتی ہے۔ مختلف شہروں میں فلسطینی عوام کے حق میں ریلیاں نکالی گئیں، دعائیہ اجتماعات منعقد ہوئے، اور سوشل میڈیا پر “فری فلسطین” مہم نے زور پکڑا۔ جماعت اسلامی، جمعیت علمائے اسلام، اور دیگر مذہبی و سماجی تنظیموں نے اسرائیلی مظالم کے خلاف آواز بلند کی، جبکہ انسانی حقوق کے کارکنان نے اقوام متحدہ اور عالمی اداروں سے فوری مداخلت کا مطالبہ کیا۔

گلوبل صمود فلوٹیلا کا قافلہ کب روانہ ہوا

اگست اور ستمبر میں دنیا بھر سے درجنوں کشتیوں پر مشتمل یہ قافلہ غزہ کی جانب روانہ ہوا، جسے “گلوبل مارچ ٹو غزہ”، “صمود قافلہ”، “صمود نوسانتارا”، اور “فریڈم فلوٹیلا کولیشن” جیسے تاریخی اقدامات کا تسلسل قرار دیا گیا۔ شرکاء نے مختلف بندرگاہوں سے روانہ ہو کر سمندری راستے سے ایک انسانی راہداری قائم کرنے کی کوشش کی، تاکہ ادویات اور خوراک غزہ کے نہتے اور بھوک پیاس سے نڈھال شہریوں تک پہنچائی جا سکے۔

تاہم، غزہ کے قریب پہنچنے پر اسرائیلی افواج نے فوٹیلا پر حملہ کر دیا۔ اسرائیلی نیوی نے کشتیوں کو گھیر کر ڈرونز اور کمانڈوز کے ذریعے کارروائی کی، جس کے نتیجے میں متعدد امدادی کارکنوں کو زدوکوب کیا گیا اور گرفتار کر کے اسرائیل منتقل کر دیا گیا۔ اطلاعات کے مطابق سینیٹر مشتاق احمد خان سمیت 200 سے زائد افراد کو حراست میں لے لیا گیا، جن کا رابطہ منقطع ہو گیا۔

فلوٹیلا پر حملے کے بعد دنیا بھر میں احتجاج

پاکستان میں اس واقعے پر شدید تشویش کا اظہار کیا گیا، وزیر اعظم پاکستان شہبازشریف نے اسرائیل کی جانب سے غزہ امداد لیکر جانے والے گلوبل صمود فلوٹیلا پر حملے کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے حراست میں لیے گئے تمام افراد کو فوری طور پر رہا کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔

جبکہ عالمی سطح پر اس حملے کی مذمت کی گئی۔ اقوام متحدہ کے نمائندوں نے اسرائیلی کارروائی کو بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی قرار دیا، اور کئی ممالک نے اسرائیل سے وضاحت طلب کی۔

گلوبل صمود فلوٹیلا کی کال پر یونان، اٹلی ، ترکیہ سمیت مختلف ممالک میں احتجاجی مظاہرے شروع ہوگئے ، مظاہرین نے صمود فلوٹیلا کے گرفتار کارکنان کے حق میں نعرے بازی اور تمام امدادی کارکنان کی فوری رہائی کا مطالبہ کردیا

یہ حملہ نہ صرف انسانی حقوق کی سنگین پامالی تھا بلکہ عالمی ضمیر کو جھنجھوڑنے والا واقعہ بھی بن گیا۔ گلوبل صمود فلوٹیلا اب ایک علامت بن چکاہے — ایک ایسی علامت جو عالمی بیانیے کو بدلنے، بین الاقوامی خاموشی کو چیلنج کرنے، اور فلسطینی عوام کے ساتھ یکجہتی کے اظہار کا ذریعہ ہے

مزید خبریں

مقبول ترین خبریں