فرانس میں طلبہ کے بڑے پیمانے پر احتجاج نے ملک کو درپیش بڑھتے مالی دباؤ کو نمایاں کردیا ہے، جبکہ بھاری عوامی قرض اور بجٹ خسارہ اب صرف فرانس ہی نہیں بلکہ پورے یورپ کے لیے تشویش کا باعث بن رہے ہیں۔
فرانس کے سرکاری ادارے INSEE کے مطابق جون 2026 کے بعد دوسری سہ ماہی کے اختتام پر ملک کا سرکاری قرض 3.595 ٹریلین یورو تک پہنچ گیا، جو مجموعی قومی پیداوار کا تقریباً 119 فیصد ہے۔ تازہ اعدادوشمار کے مطابق اپریل سے جون کے دوران قرض میں مزید 59.6 ارب یورو کا اضافہ ہوا۔
فرانس کی مالی مشکلات ایسے وقت میں بڑھ رہی ہیں جب حکومت کو بڑھتی ہوئی پنشن لاگت، معمر آبادی اور دفاعی اخراجات کے لیے مزید رقم درکار ہے۔
دوسری جانب فرانسیسی طلبہ اور اساتذہ تعلیمی اداروں میں عملے کی کمی، کلاس رومز میں گنجائش سے زیادہ طلبہ اور خستہ حال اسکولوں کے خلاف احتجاج کر رہے ہیں۔ حالیہ مظاہروں میں متعدد اسکولوں کی سرگرمیاں بھی متاثر ہوئیں۔
قرض کم کرنے کی کوشش، احتجاج کا خطرہ
فرانس کی حکومت بجٹ خسارہ کم کرنے کے لیے سرکاری اخراجات میں کمی اور ٹیکسوں میں اضافے جیسے اقدامات پر غور کر رہی ہے، تاہم ماضی میں ایسے مالیاتی فیصلے بڑے احتجاج کا سبب بن چکے ہیں۔
2023 میں ریٹائرمنٹ کی عمر بڑھانے کی حکومتی کوشش کے خلاف بھی فرانس بھر میں بڑے مظاہرے ہوئے تھے۔
اب ایک بار پھر حکومت کو مشکل فیصلوں کا سامنا ہے، کیونکہ ایک طرف قرض کم کرنا ضروری ہے اور دوسری طرف عوامی اخراجات میں کمی سیاسی اور سماجی مزاحمت کو جنم دے سکتی ہے۔

فرانسیسی بانڈز کی فروخت، یورپ میں تشویش
فرانس کی مالی صورتحال پر سرمایہ کاروں کی تشویش اس وقت مزید نمایاں ہوئی جب فرانسیسی سرکاری بانڈز کی بڑے پیمانے پر فروخت شروع ہوئی اور ان کی شرح منافع میں تیزی سے اضافہ ہوا۔
فرانس اور جرمنی کے سرکاری بانڈز کی شرح منافع کے درمیان فرق بھی نمایاں طور پر بڑھا، جس کا مطلب ہے کہ سرمایہ کار فرانس کو قرض دینے کے لیے جرمنی کے مقابلے میں زیادہ منافع طلب کر رہے ہیں۔
ماہرین کو خدشہ ہے کہ اگر فرانس کی مالی مشکلات مزید بڑھیں تو اس کے اثرات دیگر یورپی ممالک اور یورو زون کی مالی منڈیوں تک بھی پہنچ سکتے ہیں۔

بحران فرانس سے آگے کیوں جاسکتا ہے؟
فرانس یورپ کی بڑی معیشتوں میں شامل ہے، اس لیے اس کے قرض کے بحران کے اثرات صرف ایک ملک تک محدود نہیں رہیں گے۔
بلند شرح سود حکومتوں کے لیے قرض لینا مہنگا کرتی ہے، جبکہ کاروبار اور عام شہری بھی مہنگے قرضوں کی وجہ سے متاثر ہوتے ہیں۔ اس سے گھروں اور گاڑیوں کی خریداری، سرمایہ کاری اور مجموعی معاشی سرگرمی پر دباؤ بڑھ سکتا ہے۔
یورپ کی معیشت میں حالیہ بہتری کے باوجود بلند بانڈ ییلڈز اس بحالی کے لیے بڑا خطرہ بن سکتی ہیں۔
یوں فرانس کا موجودہ بحران صرف بجٹ خسارے اور قرض کا معاملہ نہیں، بلکہ یہ سوال بھی ہے کہ اگر یورپ کی بڑی معیشت اپنے قرض پر قابو نہ پاسکی تو اس کے اثرات پورے یورو زون تک کہاں تک پہنچ سکتے ہیں؟