فلائی دبئی کی پرواز میں آخر ہوا کیا تھا؟ 10 سوالوں کے جواب

فہرستِ مضامین

دبئی سے تل ابیب جانے والی فلائی دبئی کی پرواز FZ1073 میں 30 ستمبر کو پیش آنے والے غیر معمولی واقعے نے کئی اہم سوالات کھڑے کردیئے ہیں۔ طیارے میں مبینہ طور پر کاک پٹ کے اندر جھگڑا، پائلٹ پر حملہ، اچانک خطرناک گراوٹ اور ہنگامی لینڈنگ جیسے واقعات پیش آئے۔

170 سے زائد مسافروں اور عملے کو لے جانے والی پرواز دبئی سے روانہ ہوئی، تاہم سعودی فضائی حدود میں پہنچنے کے بعد اس کے راستے اور بلندی میں اچانک غیر معمولی تبدیلی دیکھی گئی۔ بعد ازاں طیارے نے سعودی عرب کے شہر تبوک میں ہنگامی لینڈنگ کی۔

واقعے کی تحقیقات جاری ہیں اور کئی سوالات کے حتمی جوابات تاحال سامنے نہیں آئے۔ اب تک دستیاب معلومات کی بنیاد پر 10 اہم سوالات اور ان کے جوابات یہ ہیں۔

1۔ طیارے کے ساتھ کیا ہوا؟

پرواز کے دستیاب اعداد و شمار کے مطابق طیارہ دبئی سے روانہ ہونے کے تقریباً دو گھنٹے بعد سعودی فضائی حدود میں داخل ہوا، جہاں اس نے اچانک شدید موڑ لیا اور تیزی سے بلندی کھونا شروع کردی۔

رپورٹس کے مطابق طیارہ تقریباً 30 سیکنڈ میں 16 ہزار فٹ سے زیادہ نیچے آیا۔ اس دوران ہنگامی سگنلز بھی بھیجے گئے اور طیارے نے اپنا راستہ تبدیل کرکے تبوک کا رخ کیا۔

2۔ کاک پٹ میں کیا ہوا؟

رپورٹس کے مطابق معاون پائلٹ نے دورانِ پرواز کپتان پر حملہ کیا، جس کے نتیجے میں کپتان زخمی ہوگیا۔ اماراتی اٹارنی جنرل کے مطابق حملے میں کاک پٹ میں موجود ہنگامی کلہاڑی استعمال کی گئی۔

کپتان کے مطابق شدید گراوٹ کے دوران وہ کاک پٹ کا دروازہ کھولنے میں کامیاب ہوا، جس کے بعد چند مسافر اندر داخل ہوئے اور معاون پائلٹ کو قابو کیا۔

3۔ کیا معاون پائلٹ طیارہ گرانا چاہتا تھا؟

اماراتی حکام نے معاون پائلٹ کے اقدامات کو مبینہ دہشت گردانہ کارروائی کی کوشش قرار دیا ہے، جبکہ اسرائیلی حکام کے مطابق وہ طیارے کو گرانے کی کوشش کرتا ہوا معلوم ہورہا تھا۔

تاہم واقعے کا حتمی مقصد اور معاون پائلٹ کے اقدامات کی مکمل تفصیل تحقیقات مکمل ہونے کے بعد ہی واضح ہوسکے گی۔

4۔ طیارہ تباہ ہونے کے کتنا قریب تھا؟

دستیاب پرواز کے اعداد و شمار کے مطابق طیارے نے انتہائی تیزی سے بلندی کھوئی۔ شدید ترین گراوٹ کے دوران اس کی بلندی کم ہونے کی رفتار تقریباً 166 میٹر فی سیکنڈ بتائی گئی ہے۔

تاہم یہ کہنا قبل از وقت ہے کہ طیارہ تباہی کے کتنے قریب تھا، کیونکہ اس کا تعین پرواز کے ڈیٹا، کاک پٹ ریکارڈنگ اور مکمل تحقیقات کے بعد ہی ہوسکے گا۔

5۔ مسافروں نے طیارہ بچانے میں کیا کردار ادا کیا؟

رپورٹس کے مطابق کاک پٹ سے شور سنائی دینے کے بعد مسافروں کو صورتحال کا اندازہ ہوا۔ کم از کم چار مسافر کاک پٹ میں داخل ہوئے اور معاون پائلٹ کو کنٹرولز سے دور کیا۔

ایک مسافر نے طیارے کو مستحکم کرنے میں مدد کی، جبکہ دیگر مسافروں نے معاون پائلٹ کو قابو کرکے باندھ دیا۔ طیارے میں موجود ایک ڈاکٹر نے زخمی کپتان کو طبی امداد بھی فراہم کی۔

6۔ دو مزید پائلٹ طیارے میں کیوں موجود تھے؟

طیارے میں دو آف ڈیوٹی پائلٹ بھی موجود تھے، جنہوں نے بعد میں طیارے کا کنٹرول سنبھالنے میں مدد کی۔

ایک پائلٹ کے مطابق طویل یا پیچیدہ پروازوں میں اضافی تربیت یافتہ پائلٹس کا موجود ہونا عملے کو متبادل فراہم کرنے کے لیے ہوسکتا ہے، تاہم اس پر فلائی دبئی کی جانب سے تفصیلی وضاحت سامنے نہیں آئی۔

7۔ معاون پائلٹ کون تھا؟

معاون پائلٹ کی شناخت کی باضابطہ طور پر عوامی تصدیق نہیں کی گئی۔ تاہم واقعے سے واقف ذرائع کے مطابق اس کا نام ہمام الہمامی بتایا گیا ہے اور وہ عمانی شہری تھا۔

اسرائیلی وزیراعظم نے دعویٰ کیا ہے کہ معاون پائلٹ انتہا پسندانہ نظریات سے متاثر تھا اور اس میں خودکشی کا رجحان بھی موجود تھا، تاہم ان دعوؤں کی مزید تفصیلات یا آزادانہ تصدیق سامنے نہیں آئی۔

8۔ کیا ایران یا کوئی اور ملک ملوث تھا؟

اسرائیلی سکیورٹی حکام کے مطابق فی الحال ایران کے ملوث ہونے کا کوئی ثبوت سامنے نہیں آیا۔

ایران کی جانب سے بھی اس واقعے میں کسی کردار کے حوالے سے کوئی بیان سامنے نہیں آیا، جبکہ تحقیقات ابھی جاری ہیں۔

9۔ تحقیقات کون کررہا ہے؟

واقعے کی تحقیقات متحدہ عرب امارات کی جانب سے کی جا رہی ہیں، کیونکہ طیارہ امارات میں رجسٹرڈ ہے۔

سعودی عرب نے بھی ہنگامی لینڈنگ کے بعد ابتدائی تحقیقات میں حصہ لیا، جبکہ اسرائیلی حکام نے بھی تحقیقات میں ممکنہ تعاون کا عندیہ دیا ہے۔

فلائی دبئی نے بھی واقعے کی جامع تحقیقات جاری ہونے کی تصدیق کی ہے۔

10۔ ایسا واقعہ کیسے پیش آیا؟

یہ سوال بھی تحقیقات کا اہم حصہ ہے کہ سخت فضائی سکیورٹی اور پائلٹس کی جانچ کے باوجود مبینہ طور پر یہ واقعہ کیسے پیش آیا۔

11 ستمبر کے حملوں کے بعد دنیا بھر میں ہوا بازی کے شعبے میں سکیورٹی کے طریقہ کار مزید سخت کیے گئے۔ اسرائیل جانے والی پروازوں پر بھی سکیورٹی جانچ کے سخت تقاضے موجود ہیں۔

اسرائیلی وزیراعظم نے کہا ہے کہ اس واقعے کے بعد پائلٹس کی سکیورٹی جانچ کے طریقہ کار کا جائزہ لیا جائے گا۔

تاہم فی الحال واقعے کے محرکات، معاون پائلٹ کے ارادے اور کاک پٹ میں پیش آنے والے واقعات کی مکمل تصویر تحقیقات مکمل ہونے کے بعد ہی واضح ہوسکے گی۔

مزید خبریں

مقبول ترین خبریں