غزہ ( ویب ڈیسک ) اسرائیلی فوج نے غزہ میں امدادی مقام پر ایک فلسطینی لڑکے کی آنکھ پر گولی مار دی، خوراک کی تلاش میں زخمی ہونے والا فلسطینی لڑکے کی ایک آنکھ کی بینائی متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔
برطانوی خابرو ادارے رائٹر کی رپورٹ کے مطابق فلسطینی نوعمر لڑکے کو اسرائیلی فوج کی جانب سے اس وقت گولی ماری گئی، جب وہ اپنے خاندان کے لیے خوراک کی تلاش میں تھا۔ معالجین نے کہا ہے لڑکہ ممکنہ طور پر اپنی بائیں آنکھ کی بینائی دوبارہ حاصل نہیں کر سکے گا۔
پندرہ سالہ عبدالرحمن ابو جزر نے بتایا کہ اسرائیلی فوجیوں نے اسے گولی لگنے کے بعد بھی نشانہ بنانا جاری رکھا، جس سے اسے لگا کہ “یہی اختتام ہے” اور “موت قریب ہے۔
آنکھ پر سفید پٹی بندھی ہوئے لڑکے نے اسپتال کے بستر سے خوفناک واقعہ بیان کرتے ہوئے کہا کہ “وہ پہلی بار میں تقسیم پوائنٹ پر گیا، کیونکہ میرے بہن بھائیوں اور میرے پاس کھانے کے لیے کچھ نہیں تھا۔ ہم بھوکے تھے۔
جیسے ہی ہم دوڑنے لگے، انہوں نے فائر کھول دیا
عبدالرحمن ابو جزر نے بتایا کے وہ صبح سویرے ہی امداد کے لیے لائن میں لگ گیا تھا اور پانچ گھنٹوں تک انتظار کرتا رہا، پانچ گھنٹوں بعد غزہ سٹی کے علاقے المنتزه پارک تک ہجوم کے ساتھ آگے بڑھتا گیا، جب فائرنگ ہوئی تو ہم دوڑ رہے میں تین دیگر افراد کے ساتھ تھا، تینوں کو گولی لگی۔
لڑکے نے مزید بتایا کہ جیسے ہی ہم دوڑنے لگے، انہوں نے فائر کھول دیا۔ پھر مجھے لگا جیسے میرے جسم میں بجلی دوڑ گئی ہو۔ میں گر گیا۔ مجھے لگا کہ جیسے مجھے کرنٹ لگا ہو۔ پھر میں بے ہوش ہو گیا۔ جب ہوش آیا تو میں نے لوگوں سے پوچھا ‘میں کہاں ہوں۔

لڑکے کے مطابق قریب موجود لوگوں نے اسے بتایا کہ اسے سر میں گولی لگی ہے،وہ اب بھی فائرنگ کر رہے تھے۔ میں خوفزدہ ہو گیا اور دعائیں پڑھنے لگا، جب اسپتال پہنچا تو اسپتال میں ایک ڈاکٹر نے موبائل کی روشنی زخمی آنکھ کے قریب کی اور پوچھا کیا وہ روشنی دیکھ سکتا ہے۔ وہ نہیں دیکھ سکا۔ ڈاکٹر نے کہا کہ گولی لگنے سے آنکھ میں شدید زخم آیا ہے۔
امداد حاصل کرنے والوں کی لاشیں اسپتالوں میں
غزہ کی وزارت صحت کے مطابق، گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران اسپتالوں میں 119 لاشیں پہنچی ہیں، جن میں 15 ملبے کے نیچے یا دیگر جگہوں سے نکالی گئیں۔ 866 فلسطینی بھی زخمی حالت میں لائے گئے۔ کم از کم 65 فلسطینی امداد کے حصول کے دوران شہید ہوئے اور 511 زخمی ہوئے۔
الجزیرہ کے مطابق اتوار کے دن فجر سے اب تک اسرائیلی فوج کی فائرنگ سے 92 افراد مارے جا چکے ہیں، جن میں 56 امداد حاصل کرنے والے شہری شامل ہیں۔ اسرائیلی فوج نے ان فلسطینیوں پر فائرنگ کی ہے جو جی ایچ ایف کی زیر نگرانی تقسیم پوائنٹس پر خوراک لینے کے لیے جاتے ہیں۔ اقوام متحدہ کے مطابق مئی سے اب تک 1,300 سے زیادہ امداد کے خواہشمند فلسطینی مارے جا چکے ہیں۔
اقوام متحدہ کی گلوبل نیوٹریشن کلسٹر کے مطابق، 6,000 سے زائد فلسطینی بچے اسرائیلی ناکہ بندی کی وجہ سے غذائی قلت کے شکار ہیں اور زیر علاج ہیں۔