قومی ترقی کے لیے سی ڈی ڈبلیو پی کے 55.164 ارب روپے مالیت کے ترقیاتی منصوبوں کی منظوری

فہرستِ مضامین

سی ڈی ڈبلیو پی ترقیاتی منصوبے ملکی ترقی کی رفتار بڑھانے کے لیے ایک اہم پیش رفت کے طور پر سامنے آئے ہیں، جن میں پانچ منصوبے مجموعی طور پر 55.164 ارب روپے مالیت کے ہیں۔ ان کا مقصد پائیدار اقتصادی اور سماجی ترقی کو یقینی بنانا ہے۔

ان میں سے دو منصوبے، جن کی مالیت 7.725 ارب روپے ہے، براہِ راست CDWP سطح پر منظور کیے گئے، جبکہ تین بڑے منصوبے، جن کی لاگت 47.439 ارب روپے ہے، حتمی منظوری کے لیے ایگزیکٹو کمیٹی آف نیشنل اکنامک کونسل (ECNEC) کو بھجوا دیے گئے۔

وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی احسن اقبال کی زیر صدارت اجلاس میں سیکرٹری پلاننگ اویس منظور سمرا، چیف اکنامسٹ، وائس چانسلر PIDE، اور وفاقی و صوبائی محکموں کے اعلیٰ نمائندے شریک ہوئے۔

اجلاس میں ماحولیات، زراعت، صحت اور فزیکل پلاننگ جیسے اہم شعبوں پر منصوبے زیر غور آئے۔ ماحولیات کے شعبے سے متعلق “سکھر میں موسم کی نگرانی کے ریڈار کی تنصیب (نظرثانی شدہ)” منصوبہ 5.725 ارب روپے مالیت کا منظور کر لیا گیا۔ وزیر منصوبہ بندی نے منصوبے میں تاخیر پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے ترجیحی بنیادوں پر تنفیذ کی ہدایت کی۔

زراعت سے متعلق “بلوچستان لائیولی ہڈز اینڈ انٹرپرینیورشپ پراجیکٹ”، جو 12.46 ارب روپے کی لاگت سے عالمی بینک اور IDA کی مالی معاونت سے چلایا جائے گا، ECNEC کو سفارش کے ساتھ بھیجا گیا۔ اس منصوبے کا مقصد بلوچستان کے آٹھ پسماندہ اضلاع میں روزگار اور کاروباری مواقع پیدا کرنا ہے۔

صحت کے شعبے میں راولپنڈی کے آرمڈ فورسز انسٹیٹیوٹ آف کارڈیالوجی (AFIC-NIHD) کی توسیع کا 25.45 ارب روپے مالیت کا منصوبہ بھی شامل ہے، جس میں بستروں کی گنجائش 420 سے بڑھا کر 800، جدید آپریشن تھیٹرز، MRI اور CT سکینرز، اور ماہر کلینکس کی سہولتیں فراہم کی جائیں گی۔

فزیکل پلاننگ اینڈ ہاؤسنگ شعبے میں “نئے بلوچستان اسمبلی بلڈنگ” کا 9.51 ارب روپے مالیت کا منصوبہ بھی منظور ہوا، جو جدید سہولیات، وسیع اسمبلی ہال، وزیر اعلیٰ و اسپیکر کے دفاتر، اور پارکنگ کی مکمل سہولیات پر مشتمل ہوگا۔

آخر میں، “ملک کے پسماندہ اضلاع کے لیے خصوصی ترقیاتی اقدامات (50:50)” کے تحت سندھ کے ضلع کشمور کے لیے 1.99 ارب روپے کا منصوبہ بھی منظور کیا گیا۔ اس کی نگرانی اور ڈیزائن کے لیے ایک کمیٹی تشکیل دی گئی ہے۔

یہ سی ڈی ڈبلیو پی ترقیاتی منصوبے پاکستان کے طویل المدتی ترقیاتی وژن کے مطابق تمام شعبوں کی مساوی ترقی کو یقینی بنانے کی جانب ایک اہم قدم ہیں۔

مزید خبریں

مقبول ترین خبریں