کراچی: امیر جماعت اسلامی حافظ نعیم الرحمان نے حکومت سے ایک بار پھر پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں کمی کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ حکومت نے ریلیف نہ دیا تو لانگ مارچ دوبارہ شروع کردیا جائے گا۔
کراچی میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے حافظ نعیم الرحمان نے کہا کہ وزیراعظم کی یقین دہانی پر لانگ مارچ میں عارضی وقفہ کیا گیا ہے، احتجاج ختم نہیں کیا گیا۔ ان کے مطابق جماعت اسلامی اپنے مؤقف سے پیچھے نہیں ہٹی۔
انہوں نے کہا کہ وزیراعظم سے ملاقات یا رابطہ ہوا تو پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں کمی کے معاملے پر دو ٹوک بات ہوگی۔ حکومت عوام کو ریلیف دیتی ہے تو بہتر، بصورت دیگر جماعت اسلامی اپنا احتجاج دوبارہ شروع کرے گی۔
امیر جماعت اسلامی کا کہنا تھا کہ جس مقام پر کھڑے ہیں وہاں سے پیچھے نہیں ہٹ سکتے، حکومت جماعت اسلامی کے پرامن احتجاج کو کمزوری نہ سمجھے۔ ان کے مطابق وزیراعظم کی جانب سے رابطے اور پیش رفت سامنے آنے کے بعد آئندہ کے لائحہ عمل کا فیصلہ کیا جائے گا۔
حافظ نعیم الرحمان نے سیاسی قیدیوں کی رہائی کا مطالبہ بھی کیا۔ انہوں نے کہا کہ تمام سیاسی قیدیوں کو رہا کیا جانا چاہیے اور خواتین سیاسی کارکنوں کی گرفتاری کسی صورت قابل قبول نہیں۔
انہوں نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ یاسمین راشد، اعجاز چوہدری، شاہ محمود قریشی اور محمود الرشید سمیت 9 مئی کے بعد سے قید سیاسی رہنماؤں کے معاملے کو حل کیا جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ کئی سیاسی قیدیوں کی صحت بھی خراب ہے، اس لیے حکومت کو معاملہ فوری طور پر حل کرنا چاہیے۔
حافظ نعیم الرحمان نے کہا کہ ملک میں جاری سیاسی کشمکش کے باعث عوام کے بنیادی مسائل پسِ پشت چلے گئے ہیں۔ ان کے مطابق جماعت اسلامی کا مطالبہ کسی ایک سیاسی جماعت تک محدود نہیں، بلکہ وہ تمام سیاسی قیدیوں کی رہائی کا مطالبہ کرتی ہے۔
انہوں نے کہا کہ سیاسی جماعتوں کے درمیان کشمکش میں عوام کو ایسے معاملات میں الجھایا جا رہا ہے جن سے ان کے بنیادی مسائل حل نہیں ہوتے، اس لیے حکومت کو عوامی مسائل پر توجہ دینی چاہیے۔