لندن: برطانیہ کے دارالحکومت لندن میں گزشتہ سال 80 ہزار سے زائد موبائل فونز چوری یا چھین لیے گئے، جن کی مجموعی مالیت اربوں روپے بتائی جا رہی ہے۔ پولیس کے مطابق یہ وارداتیں اب محض گلی محلوں تک محدود نہیں بلکہ بین الاقوامی جرائم پیشہ نیٹ ورک کی شکل اختیار کر چکی ہیں۔
میٹروپولیٹن پولیس کی جانب سے جاری تحقیقات میں انکشاف کیا گیا ہے کہ چوری شدہ فونز کو ہانگ کانگ، چین اور الجزائر جیسے ممالک میں اسمگل کیا جا رہا ہے۔ صرف گزشتہ ماہ شمالی لندن میں کی گئی کارروائیوں کے دوران 2 ہزار چوری شدہ فونز اور تقریباً 75 لاکھ روپے (2 لاکھ پاؤنڈز) نقدی برآمد کی گئی۔
یہ نیٹ ورک اس وقت بے نقاب ہوا جب ایک خاتون نے اپنے چوری شدہ آئی فون کی لوکیشن ایپ کے ذریعے ہیتھرو ایئرپورٹ کے قریب ایک گودام کا پتہ لگایا، جہاں سے ہانگ کانگ جانے والے کنٹینر میں 1,000 چوری شدہ آئی فونز برآمد کیے گئے۔
پولیس کے مطابق 2023 میں 64 ہزار فون چوری ہوئے تھے جبکہ 2024 میں یہ تعداد 80 ہزار سے تجاوز کر گئی۔ مارچ 2024 سے فروری 2025 کے دوران 1 لاکھ سے زائد کیسز رپورٹ ہوئے، لیکن محض 495 افراد پر فردِ جرم عائد کی جا سکی یعنی ہر 200 میں سے صرف ایک کیس میں کارروائی ہوئی۔
پولیس حکام نے اسے انتہائی منافع بخش اور کم خطرہ جرم قرار دیا ہے۔ ایک چور ایک فون سے اوسطاً 300 پاؤنڈز کماتا ہے، جو برطانیہ کی کم از کم اجرت سے تین گنا زیادہ ہے۔
کیمبرج یونیورسٹی کے پروفیسر لارنس شرمین نے کہا ہے کہ “جب ایک فون کی قیمت ہزار پاؤنڈ ہو تو اسے ہاتھ میں لے کر سڑک پر چلنا، ایسا ہی ہے جیسے جیب سے ہزار پاؤنڈ نکال کر ہوا میں لہرانا۔”