لیاری یونیورسٹی میں جعلی ڈگریاں، غیر حاضری، ہراسانی؛ 43 ملازمین شکنجے میں

فہرستِ مضامین

بینظیر بھٹو شہید یونیورسٹی لیاری (BBSUL) نے انتظامی و مالی بے ضابطگیوں، جعلی تعلیمی اسناد، غیر مجاز غیر حاضری، مبینہ بدسلوکی اور ہراسانی کی شکایات کے معاملے میں 43 ملازمین اور اساتذہ کے خلاف تادیبی کارروائیاں شروع کردی ہیں۔

29 ستمبر 2026 کو وائس چانسلر سیکریٹریٹ سے جاری نوٹیفکیشن کے مطابق یونیورسٹی میں فروری 2025 سے ستمبر 2026 تک مختلف معاملات کی تحقیقات کی گئیں۔ کارروائیوں میں ملازمت سے برطرفی، تنزلی، استعفیٰ، مالی ریکوری اور مختلف کیسز میں انکوائری شامل ہے۔

یونیورسٹی کے مطابق بی پی ایس 21 کے کنٹریکچوئل پروفیسر ڈاکٹر شہزادہ خرم خان علوی کو مبینہ طور پر دوہری ملازمت رکھنے پر ملازمت سے برطرف کردیا گیا اور ان سے تنخواہ و الاؤنسز کی مد میں 19 لاکھ روپے سے زائد کی ریکوری کا عمل شروع کیا گیا ہے۔

اسی طرح لیکچرار غلام مرتضیٰ لہبار کو ہائر ایجوکیشن کمیشن کی جانب سے پی ایچ ڈی ڈگری جعلی قرار دیے جانے کے بعد تنزلی کا سامنا کرنا پڑا، جبکہ یونیورسٹی کے مطابق ان سے مزید 4 لاکھ 6 ہزار 755 روپے کی ریکوری ہونا باقی ہے۔ اسسٹنٹ غلام شبیر سومرو کو جعلی اور جعلی طور پر تیار کردہ گریجویشن اسناد جمع کرانے کے الزام میں ملازمت سے برطرف کیا گیا۔

یونیورسٹی کے مطابق مجموعی طور پر 4 کروڑ 35 لاکھ روپے سے زائد کی قابلِ وصول رقم میں سے 90 لاکھ 70 ہزار 288 روپے وصول کیے جاچکے ہیں، جبکہ 3 کروڑ 44 لاکھ 89 ہزار 66 روپے کی ریکوری ابھی باقی ہے۔

نوٹیفکیشن کے مطابق کئی ایسے ملازمین کے خلاف بھی کارروائی کی گئی جو طویل عرصے سے غیر مجاز طور پر ڈیوٹی سے غیر حاضر تھے۔ سینئر کلرک تنویر احمد سومرو اور اسسٹنٹ کنٹرولر شیراز احمد کو مبینہ طور پر سات سے آٹھ سال تک غیر مجاز غیر حاضری پر برطرف کیا گیا، جبکہ بیرونِ ملک مقیم اسسٹنٹ پروفیسر ڈاکٹر شبروز نے کارروائی کے دوران استعفیٰ دے دیا۔ یونیورسٹی کے مطابق ان سے 29 لاکھ 70 ہزار روپے وصول کیے گئے۔

اس کے علاوہ یونیورسٹی کے ایک سرکاری پروگرام کے دوران مبینہ طور پر شراب نوشی کے معاملے میں 13 ملازمین کے خلاف ڈسپلنری کمیٹی میں انکوائری شروع کی گئی ہے۔ آٹھ ملازمین کے خلاف یونیورسٹی کی جانب سے فراہم کردہ موٹر سائیکلیں مبینہ طور پر فروخت کرنے کے الزام میں بھی تحقیقات جاری ہیں۔

ہراسانی کی شکایات پر بھی تین ملازمین کے خلاف انکوائری جاری ہے، جن میں ایسوسی ایٹ پروفیسر ڈاکٹر خادم حسین، لیکچرار ابرار احمد اور سینئر کلرک فرید احمد شیخ شامل ہیں۔ یونیورسٹی کے مطابق ان معاملات میں ایک طالبہ اور ایک خاتون سربراہِ شعبہ کی شکایات بھی شامل ہیں۔

وائس چانسلر سیکریٹریٹ کے مطابق تمام زیرِ التوا تادیبی معاملات یونیورسٹی کے قوانین اور سنڈیکیٹ کے ضوابط کے تحت نمٹائے جا رہے ہیں۔

مزید خبریں

مقبول ترین خبریں