محبت دیرو میں زیادتی کا نشانہ بننے کے بعد وڈیرے کے پاس بطور امانت بھیجی گئی لڑکی کا قتل: ملزمان کا جسمانی رمانڈ منظور

فہرستِ مضامین

نوشہروفیروز ضلعے کے شہر محبت دیرو میں مبینہ زیادتی کا نشانہ بننے کے بعد ایک مقامی وڈیرے کے پاس  بطور‘سام’ بھیجی جانے والی لڑکی کے قتل  کے مقدمے میں گرفتار دو ملزمان کو  تین روزہ جسمانی ریمانڈ پر  پولیس کے حوالی کیا گیا ہے۔

ایس ایس پی نوشہرو فیروز روحل کھوسو کے مطابق زیادتی کے بعد مقامی وڈیرے کے پاس بطور ‘سام’(امانت) فائزہ چنہ کے قتل کے الزام میں گرفتار دو ملزمان کو کنڈیارو کی عدالت میں پیش گیا گیا۔

جڈیشل مئجسٹریٹ  ابرار علی جکھرانی کی عدالت نے ملزمان عبدالجبار چنہ اور لال ڈنو کو تین روزہ جسمانی ریمانڈ منظور کیا ہے،  عدالت نے  ملزمان کو محبت دیرو پولیس کے حوالے کرنے کا حکم دیا ہے۔

فائزہ کے ساتھ ہوا کیا تھا؟

ایس ایس پی نوشہرو فیروز روحل کھوسو نے ڈبلیو ٹی این کو بتایا کہ محبت دیرو میں دو ہفتے قبل لڑکی کے ساتھ مبینہ طور زیادتی ہوئی تھی،  جس کے بعد مقامی وڈیرے  نے جرگہ کیا تھا اور فائزہ چنہ کو بطور‘سام’(امانت) اپنے  گھر میں رکھا تھا ، لڑکی کے ورثہ نے الزام لگایا کہ انہیں زہر دیا گیا، جس سے ان کی زندگی چلی گئی۔

مقتولہ کے والد اللہ وریو چنا کی مدعیت میں تھانہ محبت دیرو  میں دو ملزمان کے خلاف مقدمہ درج کیا گیا، جس کے بعد نامزد ملزمان کو پولیس نے فوری طور پر گرفتار کیا تھا۔

لڑکی نے والد نے ایف آئی آر میں موقف پیش کیا تھا کہ چار ماہ قبل ملزم لال ڈنو نے اس کی بیٹی کو زیادتی کا نشانہ بنایا تھا، مقامی وڈیرے نے معاملے کا جرگہ کرتے ہوئے جرم ثابت ہونے پر ملزم پر چار لاکھ روپے کا جرمانہ عائد اور فتوا سنائی کہ ملزم لعل ڈنو اس کی بیٹی فائزہ سے شادی بھی کرے گا۔

مدعی کے مطابق فیصلے پر عمل درآمد سے بچنے کے لیے ملزم لال ڈنو نے اپنے بھائی کے ساتھ مل کر اس کی بیٹی کو جبری طور پر زہر کھلا کر قتل کر دیا۔

فائزہ کو بے ہوشی کی حالت میں ہسپتال لایا گیا

سول ہسپتال کنڈیارو کے ایم ایس ڈاکٹر رفیق نے بتایا کہ متاثرہ لڑکی کو گزشتہ  صبح بے ہوشی کی حالت میں ہسپتال لایا گیا تھا، لڑکی کے لواحقین نے بتایا کہ اس نے زہریلی گولیاں کھا لی ہیں۔

ایم ایس نے بتایا کہ بچی کی حالت بہتر ہونے پر اسے گمبٹ ہسپتال ریفر کر دیا گیا  تھا۔ کل رات لڑکی کو دوبارہ ہسپتال لایا گیا تو وہ مر چکی تھی۔

ایم ایس نے مزید بتایا کہ محبت ڈیرو پولیس نے بچی کی پوسٹ مارٹم کے لیے لیٹر دے دیا ہے، لاش کے نمونے لے کر لیب بھجوا دیے گئے ہیں۔

ایس ایس پی نوشہرو فیروز روحیل کھوسو نے واقعہ کا نوٹس لیتے ہوئے  کنڈیارو کے ڈی ایس پی، ایس ایچ او اور ڈی ایس پی محراب پور پر مشتمل تین رکنی تحقیقاتی ٹیم تشکیل دی ہے، جو دو روز میں اپنی رپورٹ پیش کرے گی۔

پولیس ترجمان نے بتایا کہ دو ملزمان کو گرفتار کر لیا گیا ہے۔ ورثا کے مطابق زیادتی کا نشانہ بننے والی فائزہ کو فیصلہ کے لیے مقامی وڈیرے کے پاس بطور ‘سام’ رکھا گیا تھا، جہاں سے ملزمان اسے اپنے گھر لے گئے اور زہر دے کر قتل کردیا۔

سام لینے والا شخص خواتین کا تحفظ یقینی بنانے کا پابند

‘سام’ سندھ میں خواتین کو پناھ دینے کی ایک رسم اور روایت ہے، جس کے تحت سام لینے والا شخص خواتین کا تحفظ یقینی بنانے کا پابند ہے، ڈبلیو ٹی این کی طرف سے رابطہ کرنے پر مقامی وڈیرے عزیز اللہ دہراج نے یہ دعویٰ کیا کہ فائزہ میرے پاس سام کے طور پر پناہ  میں نہیں تھی بلکہ میرے پاس کام کرتی تھی اور اس کے ورثا بھی میرے ملازم ہیں۔

عزیزاللہ نے کہا کہ فائزھ کے ساتھ زیادتی کا جرگہ کر کے جرم ثابت ہونے پر ملزم پر چار لاکھ روپے کا جرمانہ اور ایک رشتہ بطور ونی دینے کی سزا سنائی گئی تھی، یہ بھی فیصلہ ہوا تھا کہ زیادتی کرنے والا نوجوان لال ڈنو فائزہ کے ساتھ شادی کرے گا۔

وڈیرے نے مزید کہا کہ فائزہ کو کیسے اغوا یا قتل کیا گیا، اس کا مجھے کوئی پتہ نہیں ہے، کیونکہ اس وقت وہ میرے پاس رہائش پذیر نہیں تھی۔

پولیس کا کہنا ہے کہ فائزہ کی پوسٹ مارٹم رپورٹ  آنےکے بعد اصل حقائق کا پتہ چلے گا۔

مزید خبریں

مقبول ترین خبریں