مذہبی جماعت کے احتجاج کی کال پر پولیس کا کریک ڈاؤن، سڑکیں بند ، فیض آباد پر کنٹینر پہنچا دیئے گئے

فہرستِ مضامین

اسلام آباد میں مذہبی جماعت نے 10اکتوبر کو احتجاج کا اعلان کیا ہے ۔ وفاقی پولیس کی جانب سے تمام نفری کو حاضری یقینی بنانے کا ہدایت جاری کر دی گئیں ، اعلی افسران نے آپریشن ڈویژن میں تعینات فورس کو الرٹ رہنے کا حکم دے دیا۔

احتجاج سے ایک دن قبل ہی مختلف تھانوں کی حدود میں مذہبی جماعت کے کارکنان کیخلاف کریک ڈاؤن شروع کردیا گیا ہے۔ بعض مقامات پر کارکنان کو حراست میں لیکر تھانوں میں منتقل کر دیا گیا ہے۔

مذہبی جماعت کا احتاج، سڑکیں بند

مذہبی جماعت کی احتجاج کی کال پر اسلام آباد کی مختلف سڑکوں کو ٹریفک کے لیے بند کردیا گیا۔

ترجمان اسلام آباد پولیس کے مطابق نواز چوک بجانب فیصل ایونیو آنے جانے والی ٹریفک کے لئے روڈ بند ہوگا۔زیرو پوائنٹ سے فیصل ایونیو جانے والے شہری ایف ایٹ سروس روڈ، لروین شاکر روڈ استعمال کریں۔

ترجمان اسلام آباد پولیس کا کہنا ہے کہ فیصل چوک بجانب زیروپوائنٹ جانیوالے شہری پروین شاکر روڈ، ایف ایٹ سروس روڈ استعمال کریں۔ نواز چوک ایف سیون جانیوالے شہری ایف سیون سروس روڈ استعمال کریں۔

پنجاب پولیس کا مذہبی جماعت کے دفتر پرکریک ڈاؤن

ادھر پنجاب میں بھی مذہبی جماعت کے احتجاج کے اعلان پر رات گئے مذہبی جماعت کے مرکز پر پولیس کا کریک ڈاؤن۔ مذہبی جماعت کے ترجمان کے مطابق لبیک یا اقصیٰ ملین مارچ سے 2 دن پہلے ہی پنجاب پولیس کی جانب سے مرکز پر کریک ڈاؤن کیا گیا ہے ۔

ترجمان مذہبی جماعت نے دعوی کیا ہے پولیس کی جانب سے اسٹریٹ فائرنگ کی گئی جس سے ایک کارکن شہید اور متعدد زخمی ہوگئے۔

مذہبی جماعت کے ترجمان کا کہنا ہے کہ آخر اس ظلم و ستم کی کیا وجہ ہے؟کیا پاکستان کی عوام کو پُرامن احتجاج کرنے کا حق بھی نہیں ہےکیا ریاست عوام سے اس طرح کا سلوک کرتی ہے؟ افسوس کی بات ہے وہاں یہودی ظلم و ستم کررہے ہیں اور یہاں ان کے غلام۔

ان کا کہنا تھا کہ غزہ میں بھی مسلمان مر رہا اور پاکستان میں بھی مسلمان کو مارا جارہا ہے۔ حکومت پاکستان ہوش کے ناخن لیں اور اس کریک ڈاؤن کو روکیں،یہ ظلم زیادہ دیر تک نہیں چلے گا۔

مزید خبریں

مقبول ترین خبریں