مسک کی ٹرمپ سے وفاداری، ٹیسلا کو لے ڈوبی؟

فہرستِ مضامین

ٹیسلا (TSLA.O) جو کئی برسوں سے امریکہ میں صارفین کی وفاداری کے لحاظ سے دیگر تمام بڑی آٹو کمپنیوں پر سبقت رکھتی تھی، اس کی یہ وفاداری گزشتہ موسمِ گرما سے شدید متاثر ہوئی ہے، جب سی ای او ایلون مسک نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی حمایت کی۔ یہ بات تحقیقاتی ادارے S&P گلوبل موبیلیٹی کے اعداد و شمار سے سامنے آئی ہے۔

برطانوی خابرو اداری رائٹر کی ایک رپورٹ کے مطابق یہ اعداد و شمار، جو پہلے رپورٹ نہیں کیے گئے تھے، جو ظاہر کرتے ہیں کہ جون 2024 میں ٹیسلا کے صارفین کی وفاداری اپنی بلند ترین سطح پر تھی، جب 73 فیصد ٹیسلا رکھنے والے گھرانوں نے نئی گاڑی خریدتے وقت دوبارہ ٹیسلا کا انتخاب کیا۔

تاہم جولائی 2024 میں، جب پنسلوینیا میں ٹرمپ پر قاتلانہ حملے کے بعد ایلون مسک نے ان کی حمایت کا اعلان کیا، تو یہ شرح تیزی سے گرنا شروع ہوگئی۔ مارچ 2025 میں یہ وفاداری کم ہو کر 49.9 فیصد پر پہنچ گئی، جو کہ انڈسٹری کے اوسط سے بھی کم ہے۔ یہ اس وقت ہوا جب مسک نے “ڈیپارٹمنٹ آف گورنمنٹ ایفیشنسی” قائم کیا اور ہزاروں سرکاری ملازمین کو برطرف کرنا شروع کیا۔

مئی 2025 میں وفاداری کی شرح کچھ بہتری کے بعد 57.4 فیصد تک واپس آئی، جو دوبارہ انڈسٹری اوسط سے زیادہ ہے، اور ٹویوٹا کے برابر ہے، لیکن اب بھی شیورلیٹ اور فورڈ سے پیچھے ہے۔

ایس اینڈ پی کے تجزیہ کار ٹام لبی نے کہا، “کسی برانڈ کی وفاداری میں اتنی تیزی سے کمی غیر معمولی ہے، میں نے اتنی جلدی اتنی بڑی گراوٹ پہلے نہیں دیکھی۔”

ٹیسلا اور ایلون مسک کا تبصرے سے انکار

اسی دوران، پیر کے روز ٹیسلا نے مسک کو 96 ملین شیئرز (تقریباً 29 ارب ڈالر مالیت) دینے کی منظوری دی تاکہ وہ کمپنی کی قیادت جاری رکھ سکیں، کیونکہ عدالت نے ان کی سابقہ تنخواہ کے معاہدے کو شیئر ہولڈرز کے ساتھ ناانصافی قرار دے کر منسوخ کر دیا تھا۔

کئی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ مسک کی سیاست میں مداخلت نے ان صارفین کو بدظن کیا جو ماحولیاتی بہتری کے لیے برقی گاڑیوں کا انتخاب کرتے ہیں۔ مورنگ اسٹار کے تجزیہ کار سیٹھ گولڈسٹین نے کہا، “اگر ان صارفین کی سیاسی ہمدردیاں ڈیموکریٹس کے ساتھ ہوں، تو وہ شاید ٹیسلا کے بجائے دیگر برانڈز کی طرف جائیں۔”

ٹیسلا کی پرانی ماڈل رینج اب روایتی آٹو کمپنیوں جیسے جنرل موٹرز، ہنڈائی اور بی ایم ڈبلیو کی EVs سے سخت مقابلے میں ہے۔ 2020 کے بعد سے ٹیسلا نے صرف ایک نیا ماڈل (سائبر ٹرک) متعارف کروایا ہے، جو مسک کی بڑی پیش گوئیوں کے باوجود ناکام رہا ہے۔

اپریل کی ایک کمائی کال میں ٹیسلا کے سی ایف او وایبھو تنیجا نے “برانڈ اور ملازمین کے خلاف پرتشدد رویوں” اور “پروڈکشن میں کئی ہفتوں کا تعطل” جیسے عوامل کا ذکر کیا، جو کمپنی کی ری ٹولنگ کے دوران پیش آئے۔ ایلون مسک نے اس کال میں کہا تھا کہ “اگر معاشی حالات معمول پر ہوں تو طلب میں کوئی کمی نظر نہیں آتی۔”

رپورٹ ٹیسلا کی مجموعی گاڑیوں کی فروخت دنیا بھر میں کم ہو رہی ہے۔ 2025 کے ابتدائی پانچ مہینوں میں امریکہ میں فروخت 8 فیصد کم ہوئی ہے، جبکہ یورپ میں چھ مہینوں میں 33 فیصد کمی آئی ہے۔ جہاں مسک کی سیاسی سرگرمیوں پر شدید ردعمل دیکھا گیا ہے، تجزیہ گاروں کے مطابق مسک کی سیاسی سرگرمیاں ٹیسلا کے لیے انتہائی خراب وقت پر شروع ہوئیں، کیونکہ کمپنی پہلے ہی چینی ای وی کمپنیوں اور دیگر حریفوں سے سخت مقابلے کا سامنا کر رہی تھی۔”

وفاداری میں زوال

ٹیسلا اب بھی امریکہ میں ای وی مارکیٹ لیڈر ہے، مگر مسک کے سیاسی بیانات اور کمپنی کی توجہ خودکار ڈرائیونگ پر مرکوز ہونے کے بعد، اس کی اجارہ داری متاثر ہوئی ہے۔

اسٹینڈرز اینڈ پوئرز ( S&P )S&P  تمام 50 ریاستوں سے گاڑیوں کے رجسٹریشن ڈیٹا کی بنیاد پر سب سے جامع آٹو انڈسٹری تجزیہ فراہم کرتا ہے۔ 2021 کی چوتھی سہ ماہی سے 2023 کی تیسری سہ ماہی تک، 60 فیصد سے زائد ٹیسلا صارفین نے دوبارہ وہی برانڈ خریدا۔ اس دوران صرف فورڈ نے ایک سہ ماہی میں اس سطح سے زائد وفاداری دکھائی۔

صارفین کا رخ دیگر برانڈز کی طرف

S&P کا ڈیٹا یہ بھی دکھاتا ہے کہ کون سی کمپنیاں صارفین کو اپنی طرف متوجہ کر رہی ہیں اور کون سی کھو رہی ہیں۔

جولائی 2024 سے پہلے، ٹیسلا ہر ایک کھوئے ہوئے گھرانے کے بدلے تقریباً پانچ نئے صارفین حاصل کرتی تھی۔ اس کے بعد جینیسس، کیا، اور ہنڈائی جیسے برانڈز تھے۔ ٹویوٹا، فورڈ، اور ہونڈا صارفین کھونے والے برانڈز میں شامل تھے۔

لیکن اب فروری 2025 سے، ٹیسلا ہر کھوئے ہوئے صارف کے بدلے دو سے کم نئے صارفین حاصل کر رہی ہے، جو کہ اس کی تاریخ میں سب سے کم سطح ہے۔ ٹیسلا کے سابقہ صارفین جن برانڈز کی طرف جا رہے ہیں ان میں رویان، پول اسٹار، پورشے، اور کیڈیلاک شامل ہیں۔

مزید خبریں

مقبول ترین خبریں