قاہرہ ( ڈبلیو ٹی این مانیٹرنگ ) مصری حکام نے لاکھوں فالوورز رکھنے والے کم عمر ٹک ٹاکرز کے خلاف کریک ڈاؤن شروع کر دیا، حالیہ ہفتوں میں درجنوں کو گرفتار کیا گیا ہے۔ ان پر خاندانی اقدار کی خلاف ورزی سے لے کر منی لانڈرنگ جیسے الزامات عائد کیے گئے ہیں۔
پولیس نے درجنوں گرفتاریوں کا اعلان کیا ہے جبکہ پراسیکیوشن کے مطابق وہ کم از کم 10 مقدمات کی تحقیقات کر رہے ہیں جن میں غیر قانونی مالی فوائد حاصل کرنے کا الزام ہے۔ حکام نے ان افراد پر سفری پابندیاں عائد کی ہیں، ان کے اثاثے منجمد کر دیے ہیں اور ان کے آلات ضبط کر لیے ہیں۔
کارروائیاں اظہارِ رائے پر کنٹرول قرار
ناقدین کا کہنا ہے کہ یہ کارروائیاں ریاست کی جانب سے اظہارِ رائے پر کنٹرول اور سماجی رویوں کو ضابطہ میں لانے کی ایک وسیع تر کوشش کا حصہ ہیں۔ مصر میں، جہاں روایتی میڈیا زیادہ تر ریاست کے کنٹرول میں ہے، سوشل میڈیا ایک متبادل پلیٹ فارم کے طور پر کام کرتا رہا ہے۔
گرفتار ہونے والوں میں سے اکثر اس وقت کے بچے تھے جب 2011 کے احتجاجات میں کارکنوں نے فیس بک کے ذریعے طویل عرصہ تک حکمرانی کرنے والے صدر حسنی مبارک کو اقتدار سے ہٹانے کے لیے عوام کو متحرک کیا تھا۔
وکلاء کا کہنا ہے کہ بے حیائی کے قوانین مبہم ہیں۔ حکام کسی بھی ٹک ٹاکر کی پرانی تمام پوسٹس کا جائزہ لیتے ہیں، اور اگر انہیں کوئی ایک بھی پوسٹ غیراخلاقی محسوس ہو تو وہ اس کی آمدنی کو غیر قانونی قرار دے کر مالی جرائم کے الزامات عائد کر سکتے ہیں۔
19 سالہ مریم ایمن جو اسکول کے زمانے سے سوزی الاوردونیا کے نام سے ویڈیوز پوسٹ کرتی آرہی ہیں اور جن کے 94 لاکھ فالوورز ہیں،ان کو 2 اگست سے جیل میں رکھا گیا ہے۔ ان پر غیراخلاقی مواد پھیلانے اور 1 کروڑ 50 لاکھ مصری پاؤنڈ (تقریباً 3 لاکھ امریکی ڈالر) کی منی لانڈرنگ کا الزام ہے۔
عوامی شکایت موصول ہونے پر گرفتاریاں ہوئی
وزارت داخلہ کا کہنا ہے کہ انہیں سوزی کی ویڈیوز پر عوامی شکایات موصول ہونے کے بعد گرفتار کیا گیا۔ گرفتاری سے ایک دن قبل اپنے آخری ویڈیو میں سوزی کو یہ خطرہ محسوس ہو رہا تھا۔
انہوں نے ویڈیو میں کہا کہ مصری صرف اس وجہ سے گرفتار نہیں ہوتے کہ وہ ٹک ٹاک پر نظر آتے ہیں۔ انہوں نے تسلیم کیا کہ بعض پچھلی ویڈیوز میں انہوں نے “غصہ نکالا، گالیاں دیں یا کوئی نازیبا مذاق کیا ہو گا، مگر ان کا مقصد محض دل کی بھڑاس نکالنا تھا، نہ کہ نوجوان نسل کو ایسا کرنے کی ترغیب دینا
وکلا کا کیس پر تبصرے سے انکار
ان کے وکیل، مروان الجنڈی، نے کیس پر براہِ راست تبصرہ کرنے سے انکار کیا، لیکن کہا کہ عمومی طور پر بے حیائی کے قوانین کو من مانی طور پر لاگو کیا جا رہا ہے۔
مصر میں، جیسے باقی دنیا میں، ٹک ٹاک پر شہرت حاصل کرنے کا سفر اکثر غیر متوقع ہوتا ہے۔ سوزی، لاکھوں دوسرے نوجوانوں کی طرح، اپنی روزمرہ زندگی اور میک اپ روٹین کی ویڈیوز پوسٹ کیا کرتی تھیں۔
چند سال قبل، ان کی ایک لائیو اسٹریم اس وقت وائرل ہو گئی جب انہوں نے اپنے والد (جو بس کنڈکٹر ہیں) کے تبصرے پر ایک منظوم عربی جملے میں جواب دیا، جو بعد میں ایک مشہور جملہ بن گیا۔
انہوں نے کروڑوں فالوورز حاصل کیے، جو انہیں دوستوں کے ساتھ کھانا کھاتے یا ترکی میں سٹریٹ میوزیشنز کے ساتھ رقص کرتے دیکھنے آتے تھے۔ ان کے بوائے فرینڈ کے ساتھ ایک فوٹو شوٹ کی ویڈیو کو 3 کروڑ سے زائد افراد نے دیکھا۔ ان کی ذہنی معذوری کا شکار بہن بھی کچھ ویڈیوز میں نظر آئیں، جس سے معذوری کے حوالے سے سماجی بدنامی کم کرنے میں مدد ملی۔