معروف مذہبی اسکالر انجنیئر محمد علی مرزا کو جھلم سے حراست میں لے لیا گیا

فہرستِ مضامین

جھلم ( ڈبلیو ٹی این مانیٹرنگ ) جہلم پولیس  نے معروف مذہبی اسکالر انجینئر محمد علی مرزا کو مبینہ طور پر متنازع بیانات دینے کے الزام میں مینٹیننس آف پبلک آرڈر (ایم پی او) آرڈیننس کے تحت 30 دن کے لیے حراست میں لے لیا گیا ہے۔

انجینئر محمد علی مرزا، جو جہلم شہر کے محلہ مشین محلہ کے رہائشی ہیں، سوشل میڈیا پر اپنے لیکچرز اور تقاریر باقاعدگی سے اپلوڈ کرتے ہیں، اور ان کے یوٹیوب چینل پر 31 لاکھ سے زائد فالوورز ہیں۔

جہلم کے ڈپٹی کمشنر محمد میثم عباس اور ڈسٹرکٹ پولیس آفیسر (ڈی پی او) احمد محی الدین نے نجی اخبار سے بات کرتے ہوئے  انجنیئر محمد علی مرزا کی ایم پی او کے تحت گرفتاری کی تصدیق کی۔

ایم پی او آرڈیننس کیا ہے؟

تھری ایم پی او کا قانون پاکستان میں حکومت کو ایسے افراد کی حفاظتی حراست کے لیے وسیع اختیارات دیتا ہے جنھیں عوامی تحفظ یا نظم کے لیے خطرہ سمجھا جاتا ہے۔

 یہ قانون ایک طے شدہ مدت کے لیے کسی بھی شخص کی گرفتاری اور نظربندی کی اجازت دیتا ہے، جسے بڑھایا جا سکتا ہے۔ تاہم یہ حراست ایک وقت میں لگاتار چھ ماہ سے زیادہ نہیں ہو سکتی تاہم، تین ماہ سے زیادہ طویل حراست کے لیے عدالتی نگرانی کی ضرورت ہوتی ہے۔

ایم پی او آرڈیننس کی شق 3 کے تحت حکام کو یہ اختیار حاصل ہے کہ وہ ایسے مشتبہ افراد کو حراست میں لے سکتے ہیں جو عوامی سلامتی کے خلاف کسی بھی قسم کی سرگرمی میں ملوث ہوں یا جن کی سرگرمیوں سے امن و امان کو خطرہ ہو سکتا ہو۔

پولیس حکام کے مطابق گزشتہ روز ایک مذہبی گروہ نے ایک درخواست جمع کرائی تھی، جس میں انجینئر مرزا کے خلاف قانونی کارروائی کا مطالبہ کیا گیا تھا۔ درخواست میں مؤقف اختیار کیا گیا کہ مرزا نے ایک انٹرویو میں متنازع بیانات دیے جو بعد میں سوشل میڈیا پر وائرل ہو گئے۔

یہ بات بھی قابلِ ذکر ہے کہ گزشتہ سال محرم کے دوران اس وقت کے جہلم ڈپٹی کمشنر نے فرقہ وارانہ کشیدگی سے بچنے کے لیے جن 17 علما پر تقریری پابندی عائد کی تھی، جن میں انجنیئر محمد علی مرزا میں شامل تھے۔

انجنیئر محمد علی مرزا کون ہیں

جہلم سے تعلق رکھنے عالے انجنیئر محمد علی مرزا اسی شہر میں اپنے مدرسے میں مختلف موضوعات پر گفتگو کرتے ہیں، ان کی اپنے یوٹیوب پر موجود 2471 وڈیوز لاکھوں مرتبہ دیکھی جا چکی ہیں، ان کے سبسکرائبر کی تعداد 31 لاکھ سے زیادہ ہے

انجینئر مرزا مارچ 2021 میں ایک مذہبی اکیڈمی میں قاتلانہ حملے میں بال بال بچ گئے تھے۔ حملہ آور کو گرفتار کر کے اس کے خلاف اقدامِ قتل کا مقدمہ درج کیا گیا تھا۔

اس سے قبل مئی 2020 میں بھی مرزا کو جہلم پولیس نے بعض مذہبی شخصیات کے خلاف مبینہ توہین آمیز بیانات دینے پر گرفتار کیا تھا، تاہم بعد میں انہیں ضمانت پر رہا کر دیا گیا تھا۔

مزید خبریں

مقبول ترین خبریں