ممبئی کے شیواجی پارک میں بھارتی الیکشن کمیشن اور چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کے خلاف احتجاج کیا گیا، جس میں معروف اداکار نصیرالدین شاہ، شبانہ اعظمی اور گلوکار و موسیقار وشال دادلانی سمیت بڑی تعداد میں افراد نے شرکت کی۔
یہ احتجاج کاکروچ جنتا پارٹی (سی جے پی) کی جانب سے انتخابی فہرستوں کی خصوصی نظرثانی، یعنی اسپیشل انٹینسیو ریویژن (SIR) سے متعلق اعتراضات کے پس منظر میں کیا گیا۔ مظاہرین نے چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کے استعفے کا مطالبہ بھی کیا۔
رپورٹس کے مطابق ممبئی پولیس کی جانب سے احتجاج کی اجازت نہ دیے جانے کے باوجود مظاہرین شیواجی پارک پہنچے۔ احتجاج میں اسٹوڈنٹس فیڈریشن آف انڈیا اور آل انڈیا اسٹوڈنٹس فیڈریشن کے کارکن بھی شریک ہوئے۔
احتجاج کے دوران نصیرالدین شاہ، سی جے پی کے بانی ابھیجیت ڈپکے کے ساتھ نظر آئے اور دونوں نے ایک دوسرے سے ملاقات کی۔ بعد ازاں وشال دادلانی بھی احتجاج میں شریک ہوئے۔
اداکارہ شبانہ اعظمی نے مظاہرین سے خطاب کرتے ہوئے ووٹ کے حق اور احتجاج کے حق پر زور دیا۔ انہوں نے کہا کہ اگر کسی شہری کا نام انتخابی فہرست سے خارج کیا جائے تو اسے اس معاملے پر آواز اٹھانے کا حق حاصل ہے۔
انتخابی فہرستوں پر کیا اعتراض ہے؟
سی جے پی اور احتجاج کے دیگر شرکا کی جانب سے الیکشن کمیشن کی جانب سے انتخابی فہرستوں کی خصوصی جامع نظرثانی کے طریقہ کار پر سوالات اٹھائے جا رہے ہیں۔ مظاہرین کا مؤقف ہے کہ اس عمل کے نتیجے میں اہل ووٹرز کے نام انتخابی فہرستوں سے خارج ہوسکتے ہیں۔
اس معاملے پر انڈین ایکسپریس کی ایک رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا کہ الیکشن کمیشن کے دو ارکان، سکھبیر سنگھ سندھو اور وویک جوشی، نے ایس آئی آر سے متعلق بعض فیصلوں اور احکامات پر 10 ماہ کے دوران کم از کم 14 مرتبہ اعتراضات اٹھائے تھے۔
تاہم الیکشن کمیشن کی جانب سے انتخابی فہرستوں کی نظرثانی کے عمل کا دفاع کیا گیا ہے۔ کمیشن کے مطابق ایس آئی آر کا مقصد انتخابی فہرستوں کی درستگی اور انتخابی فہرستوں کی سالمیت کو یقینی بنانا ہے۔
’جیل بھرو تحریک‘ کا اعلان
کاکروچ جنتا پارٹی نے احتجاج کو مزید وسعت دینے کے لیے ’جیل بھرو آندولن‘ شروع کرنے کا اعلان بھی کیا ہے۔ رپورٹس کے مطابق تنظیم انتخابی فہرستوں اور الیکشن کمیشن کے طریقہ کار سے متعلق اپنے مطالبات پر ملک کے مختلف شہروں میں احتجاج جاری رکھنے کا ارادہ رکھتی ہے۔
دہلی میں بھی احتجاج کی کوششیں کی گئی ہیں، جہاں پولیس نے بعض مظاہرین کو حراست میں لیا۔ اس دوران الیکشن کمیشن کے انتخابی فہرستوں سے متعلق اقدامات اور سیاسی جماعتوں و سول سوسائٹی کے اعتراضات پر بحث مزید تیز ہوگئی ہے۔
یوں ممبئی کا احتجاج بھارتی انتخابی فہرستوں کی نظرثانی، الیکشن کمیشن کی کارکردگی اور انتخابی عمل میں شفافیت سے متعلق جاری بحث کا تازہ مظہر بن گیا ہے۔