مڈغاسکر: مشرقی افریقہ کے جزیرہ نما ملک مڈغاسکر میں نوجوان نسل کی قیادت میں شروع ہونے والی احتجاجی تحریک “جنریشن زی” نے چند ہفتوں کے اندر ایک بار پھر ملک کی سیاسی صورتحال کو ہلا کر رکھ دیا ہے۔ حزب اختلاف کے رہنماؤں نے دعویٰ کیا ہے کہ ملک کے صدر اینڈری راجویلینا نے بڑھتے ہوئے مظاہروں اور فوجی بغاوت کے بعد ملک چھوڑ کر فرار ہونے کا فیصلہ کیا ہے، جس سے حکومت کا تختہ الٹ گیا ہے۔
مظاہروں کی شروعات اور عوامی غصہ
مڈغاسکر میں احتجاج کا آغاز 25 ستمبر کو پانی اور بجلی کی شدید قلت کے خلاف ہوا تھا، لیکن جلد ہی یہ مظاہرے بدعنوانی، ناقص حکمرانی، اور بنیادی سہولیات کی عدم فراہمی کے خلاف ایک وسیع عوامی بغاوت کی شکل اختیار کر گئے۔ ہزاروں افراد نے دارالحکومت انتاناناریوو کی سڑکوں پر نکل کر حکومت کے خلاف نعرے بازی کی اور حکومتی اداروں کے سامنے احتجاج کیا۔
ان مظاہروں میں پولیس نے سخت اقدامات کیے، جس کے نتیجے میں متعدد افراد زخمی اور کم از کم 22 افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔ اقوامِ متحدہ نے ان جھڑپوں پر تشویش کا اظہار کیا ہے اور انسانی جانوں کے ضیاع کو افسوسناک قرار دیا ہے۔
فوج کی بغاوت اور اقتدار کا بحران
احتجاج کے دوران ملک کی ایک اہم فوجی یونٹ، کیپسیٹ (CAPSAT) نے حکومت کی حمایت ترک کر دی اور مظاہرین کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کیا۔ کیپسیٹ نے اعلان کیا کہ وہ مظاہرین پر طاقت استعمال نہیں کرے گا اور خود کو فوج کا نیا سربراہ قرار دے دیا۔ اس اقدام نے صدر راجویلینا کی حکومت کو شدید نقصان پہنچایا اور ان کی سیاسی طاقت کمزور پڑ گئی۔
اسی دوران نیم فوجی دستے ژنڈرمری کے ایک دھڑے نے بھی مظاہرین کے ساتھ مل کر اپنے کنٹرول کو سنبھالا، جس سے حکومت کی گرفت مزید کمزور ہوئی۔
صدر راجویلینا کا ملک چھوڑ کر فرار
حزب اختلاف کے رہنما سیتنی رانڈریاناسولونائیکو نے بتایا کہ صدر اینڈری راجویلینا نے فوجی بغاوت کے دوران اتوار کو ملک چھوڑ دیا۔ صدر نے فیس بک پر قوم سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ اپنی جان کو محفوظ بنانے کے لیے انہیں ایک پوشیدہ جگہ منتقل ہونا پڑا ہے، تاہم انہوں نے استعفیٰ دینے سے انکار کیا اور کہا کہ وہ مڈغاسکر کو تباہ نہیں ہونے دیں گے۔
فرانسیسی ذرائع نے رپورٹ کیا کہ صدر راجویلینا کو ایک فرانسیسی فوجی طیارے کے ذریعے ملک سے باہر لے جایا گیا، اور اس حوالے سے فرانس کے صدر ایمانوئل میکرون نے کہا کہ وہ ابھی اس معاملے کی تصدیق نہیں کر سکتے، تاہم انہوں نے زور دیا کہ مڈغاسکر میں آئینی نظام کو برقرار رکھا جانا چاہیے۔
پارلیمان کی کارروائی اور عبوری حکومت
مڈغاسکر کی پارلیمان نے صدر کی غیر موجودگی میں انہیں عہدے سے ہٹا دیا اور آئینی طور پر سینیٹ کے سربراہ ژاں آندرے ندرمنجاری کو عبوری صدر مقرر کیا، جو نئے انتخابات تک ملک کی صدارت کریں گے۔ اس فیصلے کے بعد دارالحکومت میں ہزاروں افراد نے صدر کی فوری برطرفی کا مطالبہ کرتے ہوئے زبردست احتجاج کیا۔
مڈغاسکر کی نوجوان نسل ’جنریشن زی‘ کا کردار
مڈغاسکر کی تقریباً تین کروڑ آبادی میں نصف سے زائد افراد کی عمر 20 سال سے کم ہے۔ نوجوان نسل، جسے ’جنریشن زی‘ کہا جاتا ہے، مہنگائی، بے روزگاری اور معاشی بحران کے باعث شدید مشکلات کا شکار ہے۔ ان نوجوانوں نے اپنی محرومیوں کے خلاف احتجاج کا بیڑا اٹھایا اور حکومت کی تبدیلی میں کلیدی کردار ادا کیا۔
ملک کی معاشی مشکلات اور عوام کی حالت
مڈغاسکر میں غربت عام ہے اور تقریباً تین چوتھائی آبادی انتہائی غربت میں زندگی گزار رہی ہے۔ ورلڈ بینک کے مطابق ملک کی فی کس آمدنی 1960 سے 2020 کے دوران 45 فیصد کم ہو چکی ہے۔ ملک ونیلا، نکل، کوبالٹ، ٹیکسٹائل، اور جھینگے کی پیداوار کے لحاظ سے دنیا میں اہم مقام رکھتا ہے، لیکن اس کے باوجود عوام کی بڑی تعداد بنیادی سہولیات سے محروم ہے۔
صدر راجویلینا کا آخری اقدام: معافی نامے
صدر نے ملک چھوڑنے سے پہلے متعدد افراد کو معاف کر دیا، جن میں دو فرانسیسی شہری بھی شامل ہیں، جو 2021 میں ایک ناکام بغاوت کے مقدمے میں قید تھے۔ ان معافی ناموں کی تصدیق صدارتی ذرائع نے کی ہے۔
مڈغاسکر کی تازہ سیاسی ہلچل عالمی سطح پر نوجوانوں کی بغاوتوں کی ایک نئی مثال بن چکی ہے، جس میں نوجوان اپنی نسل کے مسائل کے خلاف متحد ہو کر سیاسی نظام کو چیلنج کر رہے ہیں۔ اب ملک کی نظریں آئندہ انتخابات اور عبوری حکومت کی کارکردگی پر ہیں تاکہ ملک ایک مستحکم سیاسی اور اقتصادی راہ پر گامزن ہو سکے۔