مڈٹرم الیکشن کے بعد ایران سے ڈیل کا امکان ہے: ٹرمپ

فہرستِ مضامین

نیویارک: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ ایران کے بارے میں انہیں ایک بڑا فیصلہ کرنا ہے کہ تہران کو دوبارہ ترقی اور خوشحالی کی طرف جانے کا موقع دیا جائے یا اسے مکمل طور پر تباہ کردیا جائے۔

اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سے خطاب کرتے ہوئے ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے جوہری پروگرام پر سخت مؤقف اپنایا اور کہا کہ ایران کو کسی صورت جوہری ہتھیار حاصل کرنے کی اجازت نہیں دی جاسکتی۔ ان کے مطابق ایران کے ساتھ معاہدے کی کوشش کی گئی، تاہم تہران نے اسے قبول نہیں کیا۔

ٹرمپ نے کہا کہ ایران ماضی میں مشرق وسطیٰ میں اپنی طاقت کا استعمال کرتا رہا اور دہشت گردی کی حمایت کرتا رہا، تاہم ان کے بقول موجودہ حالات میں ایران کمزور ہوچکا ہے۔ انہوں نے ایران کی معیشت اور مہنگائی کا بھی حوالہ دیا۔

امریکی صدر نے کہا کہ وہ توقع رکھتے ہیں کہ نومبر میں ہونے والے امریکی وسط مدتی انتخابات کے بعد ایران کے ساتھ کسی معاہدے کی راہ نکل سکتی ہے۔ تاہم انہوں نے خبردار کیا کہ اگر سفارتی حل نہ نکلا تو امریکا ایران کے خلاف مزید سخت کارروائی کرسکتا ہے۔

ٹرمپ نے اپنے خطاب میں امریکی طاقت اور معیشت کو بھی اجاگر کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ امریکا اس وقت ماضی کے مقابلے میں زیادہ طاقتور ہے، امریکی فوج دنیا کی طاقتور ترین فوج ہے جبکہ امریکی سرحدیں پہلے سے زیادہ محفوظ ہیں۔

انہوں نے اپنی انتظامیہ کی معاشی اور داخلی پالیسیوں کا دفاع کرتے ہوئے امریکا میں سرمایہ کاری، روزگار اور جرائم کی شرح میں کمی سے متعلق دعوے بھی کیے۔

آبنائے ہرمز کا ذکر کرتے ہوئے ٹرمپ نے امریکی بحریہ کی کارروائیوں کو اجاگر کیا اور کہا کہ امریکی فوج کی نگرانی میں بڑی مقدار میں تیل کی ترسیل ممکن ہوئی ہے۔ وائٹ ہاؤس بھی اس سے قبل آبنائے ہرمز میں امریکی بحری تحفظ کے تحت تجارتی جہازوں اور تیل کی ترسیل کے اعدادوشمار جاری کرچکا ہے۔

ٹرمپ نے اپنے خطاب میں پاکستان اور بھارت کے درمیان جنگ رکوانے میں اپنے کردار کا بھی ذکر کیا اور مختلف عالمی تنازعات میں اپنی انتظامیہ کی سفارتی کوششوں کو اجاگر کیا۔

امریکی صدر نے بین الاقوامی فوجداری عدالت پر بھی شدید تنقید کی اور رکن ممالک سے مطالبہ کیا کہ وہ عدالت سے علیحدگی اختیار کریں۔ ان کا کہنا تھا کہ کسی عالمی ادارے کو امریکی خودمختاری، سلامتی یا امریکی شہریوں اور فوجی اہلکاروں کے خلاف کارروائی کا اختیار نہیں ہونا چاہیے۔

ٹرمپ نے واضح کیا کہ امریکا اپنے فوجی اہلکاروں کو کسی ایسے بین الاقوامی ٹریبونل کے سامنے پیش ہونے کی اجازت نہیں دے گا جسے واشنگٹن امریکی مفادات کے خلاف سمجھتا ہے۔

اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سے ٹرمپ کا یہ خطاب ایسے وقت میں ہوا ہے جب امریکا اور ایران کے درمیان جاری تنازع کئی ماہ سے عالمی سیاست اور توانائی کی منڈیوں پر اثرانداز ہورہا ہے۔

مزید خبریں

مقبول ترین خبریں