راولپنڈی میں ڈی جی آئی ایس پی آر کی پریس کانفرنس میں مکہ دفاعی معاہدے اور بھارت کے حالیہ دعووں پر بات کی گئی۔ بھارت کی جانب سے ہاشم موسیٰ عرف آصف فوجی کی ہلاکت کا دعویٰ کیا گیا، جبکہ پاکستان نے محمد آصف نامی ایک ریٹائرڈ فوجی کو میڈیا کے سامنے پیش کرکے بھارتی دعوے پر سوال اٹھایا۔
راولپنڈی: ڈی جی آئی ایس پی آر لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چودھری نے کہا ہے کہ مکہ دفاعی معاہدے، حرمین شریفین کے تقدس اور سعودی عرب کی سکیورٹی سے متعلق پاکستان کے عزم میں کوئی ابہام نہیں ہونا چاہیے۔
راولپنڈی میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ مکہ دفاعی معاہدے کے تحت فوجی یا عملی اقدامات کا فیصلہ وقت کی ضرورت اور متعلقہ فریقین کی مشاورت سے ہوگا، جبکہ آپریشنل نوعیت کی معلومات منظر عام پر نہیں لائی جاسکتیں۔ مکہ دفاعی معاہدے کو پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کے درمیان اجتماعی دفاع اور دفاعی تعاون کے فریم ورک کے طور پر بیان کیا گیا ہے۔
ڈی جی آئی ایس پی آر نے بھارت کے زیرِ انتظام کشمیر میں حالیہ کارروائی سے متعلق بھارتی دعوے پر بھی ردعمل دیا۔ ان کے مطابق بھارتی فورسز نے 29 ستمبر کو ایک کارروائی میں محمد آصف عرف ہاشم موسیٰ نامی شخص کو لشکر طیبہ سے منسلک اہم کمانڈر قرار دے کر ہلاک کرنے کا دعویٰ کیا۔
لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چودھری نے بھارتی میڈیا میں شائع ہونے والی خبروں کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان نے جس شخص کو بھارتی دعوے میں پاکستانی فوج سے منسلک بتایا گیا، اسے میڈیا کے سامنے پیش کردیا ہے۔
پریس کانفرنس کے دوران حوالدار محمد آصف بھی میڈیا کے سامنے آئے۔ انہوں نے بتایا کہ ان کا تعلق اٹک سے ہے، وہ پاکستان آرمی کے ایس ایس جی سے تقریباً تین سال قبل ریٹائر ہوچکے ہیں اور اس وقت اپنے خاندان کے ساتھ زندگی گزار رہے ہیں۔
ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ پاکستان کے خلاف ایسے دعوے اور بیانیے پہلے بھی سامنے آتے رہے ہیں اور ان کے مطابق بھارت پاکستان کو بدنام کرنے کے لیے فالس فلیگ آپریشنز سے متعلق بیانیہ استعمال کرتا رہا ہے۔
انہوں نے بھارت پر خطے میں مختلف مسلح گروہوں کی پشت پناہی کے الزامات بھی عائد کیے، تاہم ان دعوؤں کو پاکستان کا مؤقف قرار دیا۔
دوسری جانب بھارتی حکام نے 30 ستمبر کو دعویٰ کیا تھا کہ سکیورٹی فورسز نے جموں و کشمیر کے بڈگام میں ایک کارروائی کے دوران لشکر طیبہ سے وابستہ شخص موسیٰ عرف آصف فوجی کو ہلاک کیا۔ بھارتی وزارتِ داخلہ نے اسے ایک سینئر لشکر طیبہ کمانڈر قرار دیا ہے۔
یوں اس معاملے پر پاکستان اور بھارت کے سرکاری بیانات ایک دوسرے سے متضاد ہیں، جبکہ دونوں جانب سے واقعے کی مختلف تفصیلات بیان کی گئی ہیں۔