میرپورخاص کے علاقے محمود آباد تھانے کے ایس ایچ او میر خادم تالپور پر ایک خاتون کی جانب سے مبینہ طور پر زیادتی کا الزام عائد کیا گیا ہے۔ ضلع پولیس کے ترجمان کے مطابق خاتون نے ڈی آئی جی کو درخواست دی تھی جس میں بتایاگیا تھاکہ وہ اپنی بیٹی کی بازیابی کے لیے فریاد لے کر مہران پولیس اسٹیشن گئی تھی جہاں اسے زیادتی کا نشانہ بنایاگیا۔
ڈی آئی جی میرپورخاص کے نوٹس کے بعد ایس ایس پی میرپورخاص سمیر نور چنا نے فوری طور پر ایس ایچ او میر خادم تالپور کو معطل کر دیا ہے جبکہ معاملے کی شفاف تحقیقات کے لیے ڈی ایس پی اسلم جاگیرانی کو تحقیقاتی افسر مقرر کیا گیا ہے۔
ایس ایس پی دفتر کے ترجمان کے مطابق خاتون کا تعلق پنجاب سے ہے۔ اس کی شادی میرپورخاص کے علاقے میں ہوئی تھی جس سے اسے ایک بیٹا اور ایک بیٹی ہیں، تاہم شوہر نے بعد میں طلاق دے دی تھی۔ پولیس کے مطابق خاتون نے اپنی بیٹی کی حوالگی کے لیے عدالت میں اپیل دائر کر رکھی تھی اور کئی بار تھانے آ کر مدد کی درخواست کی، لیکن جب ایس ایچ او لڑکی کی بازیابی میں کامیاب نہ ہوسکے تو خاتون نے اس پر زیادتی کا الزام عائد کردیا۔
پولیس ترجمان کے مطابق انصاف اور شفاف تحقیقات کے لیے ایس ایچ او کو عارضی طور پر معطل کیا گیا ہے۔
دوسری جانب صوبائی وزیر ثقافت و سیاحت سید ذوالفقار شاہ نے واقعے کا نوٹس لیتے ہوئے ایس ایس پی میرپورخاص کو تفصیلی رپورٹ پیش کرنے کی ہدایت کی ہے۔