میر رضا کیس میں جج عمر سیال اور ایس ایس پی سمیع اللہ سومرو آمنے سامنے

فہرستِ مضامین

کراچی: میر رضا کیس کی سماعت کے دوران جج عمر سیال اور ایس ایس پی سمیع اللہ سومرو کے درمیان کرائم سین سے متعلق سخت مکالمہ ہوا۔

سماعت کے دوران جج عمر سیال نے تفتیش پر سوالات اٹھاتے ہوئے ایس ایس پی سمیع اللہ سومرو سے استفسار کیا کہ ’’کمال کی بات ہے، آپ کی انویسٹی گیشن پر کون یقین کرے گا، سوائے سندھ پولیس کے؟‘‘

جج عمر سیال نے سوال کیا کہ ’’آپ نے کرائم سین جلایا تھا؟‘‘

ایس ایس پی سمیع اللہ سومرو نے جواب دیا کہ انہوں نے ایک سب انسپکٹر کو جائے وقوعہ سے خول تلاش کرنے کا ٹاسک دیا تھا۔ ان کے مطابق ٹیم نے بتایا کہ جائے وقوعہ پر جھاڑیاں بہت زیادہ تھیں، جس کے باعث تلاش میں مشکلات پیش آئیں۔

اس پر جج عمر سیال نے متعلقہ افسر کا نام پوچھا تو ایس ایس پی سمیع اللہ سومرو نے بتایا کہ پولیس افسر غوث نے کرائم سین کو آگ لگائی تھی۔

ایس ایس پی کے مطابق اگلے روز اے ایس پی آشر کی سربراہی میں ایک ٹیم جائے وقوعہ پر بھیجی گئی، جس نے وہاں سے خول برآمد کیا۔

جج عمر سیال نے سخت ریمارکس دیتے ہوئے سوال کیا کہ ’’یہ بتائیں، کرائم سین جلایا جاتا ہے؟ کیا یہ آپ کا پروٹوکول ہے؟‘‘

ایس ایس پی سمیع اللہ سومرو نے جواب دیا، ’’نو سر۔‘‘

جج عمر سیال نے مزید ریمارکس دیے کہ ’’بے نظیر بھٹو کا کرائم سین دھو دیا گیا، میر مرتضیٰ بھٹو کا کرائم سین ضائع کردیا گیا، اب میر رضا کا کرائم سین جلا دیا گیا۔‘‘

جج عمر سیال نے ایس ایس پی سمیع اللہ سومرو سے مخاطب ہوکر کہا، ’’سومرو صاحب، آپ بھی مشکوک ہیں، بہت!‘‘

ایس ایس پی سمیع اللہ سومرو نے وضاحت کی کہ ’’سر، میں نے نہیں کہا تھا کہ آگ لگاؤ۔‘‘

اس پر جج عمر سیال نے سخت ریمارکس دیتے ہوئے کہا، ’’آپ کی وجہ سے سارا کیس تباہ ہوگیا ہے۔‘‘

مزید خبریں

مقبول ترین خبریں