میڈیکل بورڈ کی تشکیل میں تاخیر پر شواہد ضائع ہونے کا خدشہ ظاہر کیا تھا، کسی حکومتی عہدیدار نے بورڈ کا رکن تبدیل کرنے کا نہیں کہا، ایڈیشنل آئی جی آزاد خان
کراچی: میر رضا کیس میں ایڈیشنل انسپکٹر جنرل (آئی جی) کراچی آزاد خان کی جانب سے جوڈیشل کمیشن کو جمع کرائے گئے جوابات کی تفصیلات سامنے آگئی ہیں، جن میں تحقیقات، میڈیکل بورڈ کی تشکیل اور پوسٹ مارٹم رپورٹ سے متعلق اہم نکات بیان کیے گئے ہیں۔
آزاد خان نے کمیشن کو بتایا کہ تحقیقات میں پیش رفت نہ ہونے پر ایس ایس پی سمیع اللہ سومرو کی سربراہی میں تحقیقاتی ٹیم تشکیل دی گئی تھی۔ ان کے مطابق گواہوں کو اہل خانہ سے ملاقات یا عوامی سطح پر بات کرنے سے روکنے اور انہیں دھمکیاں دیے جانے سے متعلق کوئی شکایت موصول نہیں ہوئی۔
ایڈیشنل آئی جی کے مطابق ڈی آئی جی ساؤتھ نے بتایا تھا کہ پولیس سرجن کے خیال میں میڈیکو لیگل آفیسر (ایم ایل او) کی رپورٹ اور اس کے نتائج درست نہیں تھے۔ اس معاملے پر تحقیقاتی ٹیم کے ارکان کو پولیس سرجن سے ملاقات کرنے کی ہدایت کی گئی تھی۔ آزاد خان نے کہا کہ 5 اگست کو انہوں نے مؤقف اختیار کیا تھا کہ اگر پولیس سرجن کو رپورٹ پر اعتراضات تھے تو انہیں تحریری طور پر آگاہ کرنا چاہیے تھا۔
میڈیکل بورڈ کی تشکیل سے متعلق آزاد خان نے بتایا کہ انہوں نے محکمہ صحت کے کسی افسر سے رابطہ نہیں کیا تھا۔ تاہم، انہوں نے بورڈ کی تشکیل میں تاخیر پر تشویش ظاہر کرتے ہوئے خدشہ ظاہر کیا تھا کہ اس دوران شواہد ضائع ہوسکتے ہیں۔
ان کے مطابق انہوں نے پولیس سرجن سے کہا تھا کہ وہ سیکریٹری صحت سے ڈاکٹر سمیہ کے نامزد کردہ ارکان کو میڈیکل بورڈ میں شامل کرنے کی درخواست کرسکتے ہیں۔ آزاد خان نے واضح کیا کہ کسی حکومتی افسر یا رکن نے انہیں میڈیکل بورڈ کے کسی رکن کو تبدیل کرنے کے لیے نہیں کہا تھا۔
ایڈیشنل آئی جی نے مزید بتایا کہ ان کے سامنے ایسا کوئی خدشہ ظاہر نہیں کیا گیا تھا کہ میڈیکل بورڈ کے نتائج خودکشی کے مفروضے سے مختلف ہوسکتے ہیں۔ ان کے مطابق انہوں نے میڈیکل بورڈ کے تنازع کو حل کرنے کی کوشش کی تھی اور خواہش تھی کہ پہلے اور دوسرے میڈیکل بورڈ کے تمام ارکان کو شامل کیا جائے۔
آزاد خان کے بیان کے مطابق ڈاکٹر اسامہ کو وزیراعلیٰ ہاؤس کی جانب سے اجلاس میں شرکت کی دعوت نہیں دی گئی تھی اور نہ ہی انہوں نے کسی اجلاس میں شرکت کی۔ ان کا کہنا تھا کہ اجلاس میں شریک افراد کی متفقہ رائے تھی کہ میڈیکل بورڈ کے نتائج کو ابتدائی پوسٹ مارٹم رپورٹ پر فوقیت حاصل ہے۔
انہوں نے یہ بھی کہا کہ ڈاکٹر اسامہ کو اپنی ابتدائی رائے کا دفاع کرنے یا اسی مؤقف پر قائم رہنے کی ہدایت نہیں دی گئی تھی۔ اسی طرح کسی نے انہیں تحقیقات میں کسی مخصوص افسر کو برقرار رکھنے یا ہٹانے کے لیے بھی نہیں کہا تھا۔