واشنگٹن ( ویب ڈیسک ) خلائی وسائل اور اسٹریٹیجک برتری کے لیے جاری عالمی دوڑ تیز ہوگئی، امریکی میڈیا کا کہنا ہے کہ امریکی خلائی ایجنسی ناسا 2030 تک چاند پر ایک نیوکلیئر ری ایکٹر بنانے کے منصوبے کو تیز کر رہا ہے، اس کا مقصد چاند پر ایک مستقل انسانی بیس قائم کرنا ہے، تاکہ وہاں طویل مدتی قیام ممکن ہو سکے۔
ناسا کے قائم مقام سربراہ نے دعویٰ کیا کہ چین اور روس بھی چاند پر ایسے منصوبے بنا رہے ہیں، اور مستقبل میں وہ ( Keep out zones )یعنی دوسرے ممالک کے لیے ممنوعہ علاقے کا اعلان کر سکتے ہیں۔
برطانوی خبر رساں ادارے بی بی سی کی رپورٹ کے مطابق یہ اقدام چاند کی سطح پر انسانی رہائش کے لیے مستقل بنیاد پر ایک اڈہ قائم کرنے کے امریکی عزائم کا حصہ ہے۔
تاہم حالیہ اور شدید بجٹ کٹوتیوں کے پیش نظر اس ہدف اور وقت کے حوالے سے سوالات اٹھائے جا رہے ہیں اور بعض سائنس دانوں کو تشویش ہے کہ یہ منصوبے جغرافیائی سیاسی مقاصد کے تحت بنائے جا رہے ہیں۔
چاند کی سطح دریافت کرنے کی دوڑ
بی بی سی کی رپورٹ کے مطابق امریکا، چین، روس، بھارت اور جاپان سمیت کئی ممالک چاند کی سطح کو دریافت کرنے کی دوڑ میں شامل ہیں، جن میں سے بعض مستقل انسانی بستیاں بسانے کی منصوبہ بندی کر رہے ہیں۔

نیویارک ٹائمز کے مطابق صدر ٹرمپ کی جانب سے مقرر کردہ ناسا کے عارضی سربراہ اور امریکی ٹرانسپورٹ سیکریٹری شان ڈفی نے ناسا کو ایک خط میں لکھا کہ ’چاند کی مستقبل کی معیشت، مریخ پر توانائی کی پیداوار اور خلا میں قومی سلامتی کو مضبوط بنانے کے لیے اس اہم ٹیکنالوجی کو بروقت آگے بڑھانا ضروری ہے‘۔
شان ڈفی نے نجی کمپنیوں سے ایسے ری ایکٹر کی تجاویز طلب کی ہیں جو کم از کم 100 کلو واٹ بجلی پیدا کر سکے، یہ توانائی کی مقدار نسبتاً کم ہے، کیونکہ زمین پر ایک عام ونڈ ٹربائن 2 سے 3 میگاواٹ بجلی پیدا کرتی ہے۔
چاند پر نیوکلیئر پاور اسٹیشن تعمیر
چاند پر نیوکلیئر ری ایکٹر کے ذریعے توانائی پیدا کرنے کا خیال نیا نہیں ہے، 2022 میں ناسا نے 3 کمپنیوں کو 50 لاکھ ڈالر کے معاہدے دیے تھے تاکہ وہ ایک ری ایکٹر کا ڈیزائن تیار کریں، اور رواں سال مئی میں چین اور روس نے اعلان کیا کہ وہ 2035 تک چاند پر ایک خودکار نیوکلیئر پاور اسٹیشن تعمیر کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔
کئی سائنس دان اس بات پر متفق ہیں کہ یہ چاند کی سطح پر مستقل توانائی کی فراہمی کا سب سے بہتر، بلکہ شاید واحد طریقہ ہے۔چاند پر ایک دن زمین کے چار ہفتوں کے برابر ہوتا ہے، جس میں 2 ہفتے مسلسل سورج کی روشنی اور 2 ہفتے مکمل تاریکی کے ہوتے ہیں، یہی وجہ ہے کہ شمسی توانائی پر انحصار انتہائی مشکل ہو جاتا ہے۔