نقیب اللہ قتل کیس: سابق ایس ایچ او سمیت باقی 7 ملزمان بھی بری

فہرستِ مضامین

کراچی: انسدادِ دہشت گردی عدالت نے نقیب اللہ قتل کیس میں عدم شواہد کی بنیاد پر سابق ایس ایچ او سمیت مزید 7 ملزمان کو بری کردیا، جس کے بعد کیس میں نامزد تمام 25 ملزمان بری ہوچکے ہیں۔

عدالت نے کیس کی سماعت کے دوران استغاثہ کی جانب سے ملزمان کے خلاف پیش کیے گئے شواہد کا جائزہ لیا اور ناکافی شواہد کی بنیاد پر 7 ملزمان کی بریت کا حکم دیا۔

بری ہونے والے ملزمان میں شعیب شوٹر، امان اللہ مروت، گدا حسین، صداقت حسین، ریاض احمد، راجہ شمیم اور محسن عباس شامل ہیں۔

ملزمان کے وکیل کے مطابق کیس میں گرفتار پولیس اہلکاروں کے خلاف کسی گواہ نے یہ بیان نہیں دیا کہ نقیب اللہ کی ہلاکت جعلی پولیس مقابلے میں ہوئی تھی۔

استغاثہ کے مطابق اس سے قبل کیس میں سابق ایس ایس پی ملیر راؤ انوار سمیت 18 پولیس افسران اور اہلکاروں کو بھی عدالت عدم شواہد کی بنیاد پر بری کرچکی ہے۔

نقیب اللہ محسود کو جنوری 2018 میں کراچی کے علاقے ملیر میں پولیس مقابلے کے دوران ہلاک کیا گیا تھا۔ واقعے کے بعد پولیس مقابلے کی نوعیت اور نقیب اللہ کی ہلاکت پر شدید سوالات اٹھے تھے، جس کے نتیجے میں مقدمہ درج کرکے تحقیقات اور عدالتی کارروائی کا آغاز کیا گیا۔

کیس میں مجموعی طور پر 25 ملزمان نامزد کیے گئے تھے۔ عدالت کی جانب سے آج مزید 7 ملزمان کی بریت کے بعد مقدمے میں نامزد تمام ملزمان بری ہوچکے ہیں۔

مزید خبریں

مقبول ترین خبریں