نو  مئی  مقدمات: سزا پانے والے پی ٹی آئی رہنمائوں کی جائدادیں ضبط کرنے کا بھی حکم

فہرستِ مضامین

لاہورکی انسداد دہشتگردی عدالت نے 9 مئی کے دو مقدمات میں سزا پانے والے تحریک انصاف کے رہنماؤں کی جائیدادیں بھی ضبط کرنے کا حکم دے دیا ہے۔

انسداد دہشت گردی کورٹ لاہور نے  تھانہ شادمان کو آگ لگانے سمیت دو مقدمات میں گزشتہ روز سنائے گئے فیصلے کی تفصیل جاری کی ہیں۔

عدالتی فیصلے کے مطابق  عدالت نے تمام مجرموں کو قید بامشقت کی سزا سنائی اور حکم دیا کہ  مجرموں کو تمام سزائیں ایک ساتھ کاٹنی ہوں گی۔

انسداد دہشتگردی عدالت نے پی ٹی آئی رہنما  اعجاز چوہدری، محمودالرشید، عمر سرفراز اور یاسمین راشد کی جائیدادیں ضبط کرنے کا بھی حکم دیا۔عدالت نے پی ٹی آئی رہنما شاہ محمود قریشی کو 9 مئی کے 2 کیسز میں رہا کرنے کا حکم بھی جاری کردیا ہے۔

واضح رہے کہ اے ٹی سی نے گزشتہ روز فیصلہ سناتے ہوئے دونوں مقدمات  میں شاہ محمود قریشی کو بری جبکہ سابق گورنر عمر سرفراز چیمہ، سابق صوبائی وزیرڈاکٹر یاسمین راشد، میاں محمود الرشید اور اعجاز چوہدری کو 10، 10 سال قید کی سزا سنائی تھی۔

عدالت نے عالیہ حمزہ اور صنم جاوید کو پولیس اسٹیشن کو آگ لگانے کے مقدمے میں 5،5 برس جبکہ عائشہ بھٹہ کو پولیس کی گاڑیاں جلانے کے مقدمے میں 10 برس قید کی سزا سنا ئی تھی۔

22 جولائی کو لاہور کی انسدادِ دہشت گردی عدالت نے شیرپاؤ پل جلاؤ گھیراؤ کیس میں بھی پاکستان تحریک انصاف کے رہنماؤں ڈاکٹر یاسمین راشد، میاں محمود الرشید، اعجاز چوہدری اور سرفراز چیمہ کو 10-10 سال قید کی سزا سنائی تھی،جبکہ شاہ محمود قریشی اور حمزہ عظیم سمیت 6 ملزمان کو بری کر دیا تھا۔

علاوہ ازیں 22 جولائی کو انسداد دہشت گردی عدالت سرگودھا نے بھی 9 مئی 2023 کو میانوالی میں احتجاج کے مقدمے میں اپوزیشن لیڈر پنجاب اسمبلی ملک احمد بچھر اور دیگر ملزمان کو 10،10 سال قید کی سزا سنائی تھی۔

سرگودھا کی انسدادِ دہشت گردی عدالت نے سانحہ 9 مئی 2023 کے حوالے سے میانوالی کے تھانہ موسیٰ خیل میں درج مقدمے کا فیصلہ سنایا تھا۔

انسداد دہشت گردی عدالت نے اپوزیشن لیڈر پنجاب اسمبلی ملک احمد خان بچھر اور رکن قومی اسمبلی احمد چٹھہ سمیت پی ٹی آئی کے 32 رہنماؤں اور کارکنوں کو 10، 10 سال قید کی سزا سنادی تھی۔

نو مئی کے واقعات اور کیسز کا پسمنظر

یاد رہے کہ 9 مئی 2023 کو القادر ٹرسٹ کیس میں عمران خان کی اسلام آباد ہائی کورٹ کے احاطے سے گرفتاری کے بعد پی ٹی آئی کی طرف سے ملک گیر احتجاج کیا گیا تھا۔

اس دوران لاہور کے علاقے ماڈل ٹاؤن میں 9 مئی کو مسلم لیگ (ن) کے دفتر کو جلانے کے علاوہ فوجی، سول اور نجی تنصیبات کو نذر آتش کیا گیا، سرکاری و نجی املاک کو شدید نقصان پہنچایا گیا تھا جبکہ اس دوران کم از کم 8 افراد ہلاک اور 290 زخمی ہوئے تھے۔

مظاہرین نے لاہور میں کور کمانڈر کی رہائش گاہ پر بھی دھاوا بول دیا تھا جسے جناح ہاؤس بھی کہا جاتا ہے اور راولپنڈی میں واقع جنرل ہیڈکوارٹرز (جی ایچ کیو) کا ایک گیٹ بھی توڑ دیا تھا۔

اس کے بعد ملک بھر میں قانون نافذ کرنے والے اداروں کے ساتھ لڑائی، توڑ پھوڑ اور جلاؤ گھیراؤ میں ملوث 1900 افراد کو گرفتار کر لیا گیا تھا جب کہ عمران خان اور ان کی پارٹی رہنماؤں اور کارکنان کے خلاف مقدمات بھی درج کیے گئے تھے۔

مزید خبریں

مقبول ترین خبریں