نیوکلیئر ماحول میں جنگ کی گنجائش نہیں،فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی بھارتی قیادت کو وارننگ

فہرستِ مضامین

ایبٹ آباد: آرمی چیف فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے پاک فوج اکیڈمی (کاکول) کی پاسنگ آؤٹ پریڈ سے خطاب میں بھارتی فوجی قیادت کو خبردار کرتے ہوئے کہا ہے کہ نیوکلیئر انوائرمنٹ میں دونوں ممالک کے درمیان جنگ کے لیے کوئی گنجائش نہیں ہے اور بنیادی اختلافات کو بین الاقوامی اصولوں، برابری اور باہمی احترام کی بنیاد پر حل کیا جائے۔

فیلڈ مارشل عاصم منیر نے آپریشن بنیان مرصوص کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اس کارروائی کے دوران قوم نے اپنی فوج کے ساتھ فولاد کی طرح کھڑے رہ کر افواج پر اعتماد کو مضبوط کیا۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ آپریشن میں پاکستانی افواج نے انتہائی پیشہ ورانہ انداز میں دشمن کے متعدد اہداف، بشمول رافیل طیارے اور چند بیسز اور ایس-400 سسٹمز کو نشانہ بنایا اور ملٹی ڈومین وارفیئر صلاحیتوں کا بھرپور مظاہرہ کیا گیا۔

آرمی چیف نے مزید کہا کہ بھارتی جانب سے پاکستان پر بے بنیاد الزامات عائد کیے گئے، مگر اس کے باوجود قوم پہلے سے زیادہ متحد ہو کر سرحدوں کا دفاع کر رہی ہے۔ انہوں نے کہا، “ہم آپ کی بیان بازی سے کبھی خوفزدہ نہیں ہوں گے، کسی بھی چھوٹی سی اشتعال انگیزی کا بھی فیصلہ کن جواب دیں گے۔”

عاصم منیر نے واضح کیا کہ اگر دوبارہ جارحیت کی کوشش کی گئی تو پاکستان فوجی اور اقتصادی طور پر دشمن کو توقعات سے کہیں زیادہ نقصان پہنچائے گا اور دشمن کا جغرافیائی حفاظتی تصور ختم ہو سکتا ہے۔ ان کے الفاظ میں، “دشمن کو پہنچائے جانے والے فوجی و اقتصادی نقصانات بھارت کی توقعات سے کہیں زیادہ بڑھ کر ہوں گے۔”

آمریکا اور دیگر عالمی رہنماؤں کے بارے میں آرمی چیف نے کہا کہ صدر ٹرمپ کی تنازعات میں کمی کی کوششیں قابل تعریف ہیں اور پاکستان بین الاقوامی و علاقائی تعلقات میں نیٹ ریجنل اسٹیبلائزر کے طور پر ابھرا ہے۔ انہوں نے سعودی عرب کے ساتھ حالیہ دفاعی معاہدے کو دونوں ممالک کے بھائی چارے کی مضبوطی قرار دیا اور کہا کہ یہ معاہدہ مشرق وسطیٰ و جنوبی ایشیا میں امن و استحکام کے لیے اہم قدم ہے۔

فیلڈ مارشل نے کہا کہ پاکستان نے ایران کے ساتھ بھی مذاکراتی عمل میں تعمیری کردار ادا کیا، اور تمام مسلم ممالک کے ساتھ تعلقات تیزی سے فروغ پا رہے ہیں۔ انہوں نے مسئلۂ کشمیر پر پاکستان کے موقف کو غیر متزلزل قرار دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان کشمیری عوام کی سیاسی، سفارتی اور اخلاقی حمایت جاری رکھے گا۔

آرمی چیف نے افغان سرزمین سے دہشت گردانہ کارروائیوں کے لیے استعمال ہونے والی پناہ گاہوں کی نشاندہی کرتے ہوئے کہا کہ طالبان حکومت کو اپنے ہاں موجود پراکسیز پر قابو پانا چاہیے جو پاکستان کے خلاف حملوں کے لیے افغان سرزمین استعمال کرتی ہیں۔ آخر میں انہوں نے قوم کو یقین دلایا کہ “اللہ کے فضل اور قومی عزم کے ساتھ ہم اس مقدس سرزمین کا ایک انچ بھی دشمن کے حوالے نہیں ہونے دیں گے” اور وطن کے دفاع میں جانیں پیش کرنے والوں کو خراجِ تحسین پیش کیا۔

مزید خبریں

مقبول ترین خبریں