وزیر بلدیات سعید غنی کے بھائی فرحان غنی جا 3 روزہ جسمانی رمانڈ منظور

فہرستِ مضامین

کراچی ( رپورٹ:  اسحاق سرکی )  کراچی کی انسداد دہشت گردی عدالت نے چیئرمین چنيسر ٹاؤن فرحان غنی کو سرکاری ملازم پر حملے کے مقدمے میں تین روزہ جسمانی ریمانڈ پر پولیس کے حوالے کر دیا

پیر کے روز چنیسر ٹاؤن میونسپل کارپوریشن کے چیئرمین فرحان غنی کو ایک سرکاری ملازم پر مبینہ تشدد کے مقدمے میں کراچی کی انسداد دہشتگردی کی عدالت میں پیش کیا گیا۔

فرحان غنی، جو پاکستان پیپلز پارٹی ( پی پی پی ) کے رہنما اور صوبائی وزیر بلدیات سعید غنی کے بھائی ہیں،  فرحان غنی کو اتوار کے روز دہشت گردی اور اقدامِ قتل کے مقدمے میں گرفتار کیا گیا تھا۔

فرحان غنی پر پر الزام ہے کہ انہوں نے شارعِ فیصل پر فائبر آپٹک نیٹ ورک بچھانے کے کام کی نگرانی کرنے والے ایک سرکاری ملازم پر حملہ کیا، جس کے بعد فرحان غنی کے خلاف کراچی کے فیرز آباد تھانے میں مقدمہ درج کرلیا گیا تھا۔

وزیر بلدیات سعید غنی نے بیان دیا تھا کہ ان کے بھائی اور ساتھی خود گرفتاری دیں گے اور عدالت میں اپنی “بے گناہی ثابت کریں گے، جس کے بعد فرحان غنی اور ان کے ساتھیوں نے فیروز آباد تھانے پہنچ کر خود گرفتاری دی تھی۔

فرحان غنی کا جسمانی رمانڈ

فرحان غنی، شکیل اور قمر احمد کو پیر کے روز پولیس کی ایک دن کی تحویل مکمل ہونے پر  کراچی کی انسداد دھشتگردی کی عدالت میں پیش کیا گیا، جہاں ان کے ساتھ وکلا کی بڑی تعداد موجود تھی۔

عدالت نے تفتیشی افسر سے پوچھا کہ ملزمان پر کن دفعات کے تحت مقدمہ درج کیا گیا ہے۔ آئی اور نے جواب دیا کہ جب فائبر آپٹک کیبل بچھائی جا رہی تھی تو ملزمان نے شکایت کنندہ کو تشدد کا نشانہ بنایا۔

فرحان گنی، جن کے پاس کوئی قانونی نمائندہ موجود نہیں تھا، انہوں نے الزامات کو جھوٹا قرار دیتے ہوئے کہا کہ انہیں بے بنیاد پھنسایا جا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ وہ صرف وہاں سے گزر رہے تھے، اور بطور ٹائون چیئرمین ان کا حق ہے کہ وہ پوچھیں کہ علاقہ کیوں کھودا جا رہا ہے۔

فرحان غنی نے عدالت کو بتایا کہ میں نے صرف ان سے اجازت نامہ مانگا، مگر وہ کوئی دستاویز پیش نہ کر سکے۔ میرا کام ہے کہ غیر قانونی کام کو روکا جائے۔ جب عدالت نے پوچھا کہ ملزمان کو کیسے گرفتار کیا گیا، تو تفتیشی افسر نے بتایا کہ وہ خود گرفتاری دینے کے لیے آئے تھے۔

تفتیشی افسر نے عدالت سے ملزمان کو مزید تفتیش کے لیے 14 دن کے جسمانی ریمانڈ پر دینے کی درخواست کی، مگر عدالت نے چار دن کا جسمانی ریمانڈ منظور کیا اور حکم دیا کہ آئندہ سماعت پر پیش رفت رپورٹ بھی جمع کروائی جائے۔

شکایت کنندہ کا مؤقف

حافظ سہیل جدون نے ہفتہ کی رات فیروزآباد تھانے میں ایف آئی آر درج کروائی تھی۔ ایف آئی آر کے مطابق، 22 اگست کو شام 4:47 بجے کے قریب، 20 سے 25 افراد، جن میں فرحان غنی بھی شامل تھے، جو تین گاڑیوں میں موقع پر پہنچے اور پوچھا کہ کیا ان کے پاس شارع فیصل پر کھدائی کرنے کی اجازت ہے۔

شکایت کنندہ کا کہنا تھا کہ اس نے انہیں تمام متعلقہ اجازت نامے دکھائے، مگر کچھ افراد نے بدتمیزی کی اور فوری طور پر کام بند کرنے کا کہا۔ جب شکایت کنندہ نے اجازت ناموں پر اصرار کیا، تو ملزمان نے گالیاں دینی شروع کر دیں اور تشدد کیا۔

شکایت میں یہ بھی درج ہے کہ فرحان اور ان کے ساتھیوں نے شکایت کنندہ کو بندوق کی نوک پر گھسیٹ کر قریب ایک پٹرول پمپ کے کمرے میں لے جا کر زبردستی قید میں رکھا اور وہاں بھی تشدد کرتے رہے۔اسی دوران پولیس موقع پر پہنچی، شکایت کنندہ کو بازیاب کروایا اور تھانے لا کر ایف آئی آر درج کی گئی۔

مزید خبریں

مقبول ترین خبریں