ٹاؤن چیئرمین فرحان غنی کے جسمانی ریمانڈ میں توسیع،’ کیا اس کیس کے بعد آپ ڈی ایس پی بن جائیں گے‘؟ عدالت تفتیشی افسر سے سوال

فہرستِ مضامین

کراچی کی انسدادِ دہشت گردی عدالت نے سرکاری ملازم پر تشدد کے کیس میں تیسر ٹاؤن کے چیئرمین فرحان غنی کے جسمانی ریمانڈ میں مزید تین دن کی توسیع کر دی ہے۔

پولیس نے صوبائی وزیر سعید غنی کے بھائی فرحان غنی اور دیگر کو انسداد دہشت گردی عدالت میں پیش کیا، وکیل وقار عباس ایڈووکیٹ نے ملزمان کی جانب سے وکالت نامہ جمع کرایا، جبکہ پراسیکیوشن کی جانب سے مزید ریمانڈ کی درخواست دی گئی۔

تفتیشی افسر نے عدالت کو بتایا کہ ملزمان کے خلاف دہشت گردی ایکٹ کے تحت مقدمہ درج کیا گیا ہے۔

اب تک کچھ نہیں کیا، مزید ریمانڈ کیا کرو گے؟: عدالت کا اظہارِ برہمی

سماعت کے دوران عدالت نے تفتیشی افسر پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے سوال کیا کہ اب تک آپ نے کیس میں کیا پیش رفت کی؟ آپ نے تو کچھ بھی نہیں کیا، پھر مزید ریمانڈ کا کیا فائدہ؟، عدالت نے مزید ریمارکس دیے کہ کیا سی آئی اے اور ایس آئی یو والے مر گئے ہیں؟ تم لوگوں کو صرف غریبوں کو تنگ کرنا آتا ہے، کیا اس کیس کے بعد آپ ڈی ایس پی بن جائیں گے؟ لوگ نمبر پلیٹوں کے لیے پیسے دیتے ہیں لیکن ذلیل ہو رہے ہیں۔

تفتیشی افسر نے جواب دیا کہ مدعی نے ابھی تک گواہ پیش نہیں کیے، جس پر عدالت نے مزید ناراضگی ظاہر کی۔

ریمانڈ میں توسیع

عدالت نے تفتیشی افسر کی درخواست منظور کرتے ہوئے فرحان غنی کے جسمانی ریمانڈ میں تین دن کی توسیع کر دی، عدالت نے پولیس کو ہدایت دی کہ فرحان غنی کو 30 اگست کو دوبارہ عدالت میں پیش کیا جائے، عدالت نے ریمارکس دیے کہ ملزمان کے ریمانڈ میں توسیع تو کی جا رہی ہے، مگر آئندہ سماعت پر پیش رفت رپورٹ بھی جمع کرائی جائے۔

فرحان غنی کون ہیں؟

فرحان غنی صوبائی وزیر سعید غنی کے بھائی، پیپلز پارٹی کے رہنما اور تیسر ٹاؤن کے چیئرمین ہیں، ذرائع کے مطابق ان کا ضلع ایسٹ میں خاصا اثر و رسوخ ہے۔

شارع فیصل پر ہونے والا جھگڑا بھی اسی اثر و رسوخ سے جڑا ہوا بتایا جا رہا ہے، معاملہ اس وقت شروع ہوا جب لنک روڈ پر ترقیاتی کام کرانے والے ایک ادارے کے اہلکار سے گڑھا کھودنے کے معاملے پر پوچھ گچھ کے دوران جھگڑا ہو گیا۔

فرحان غنی کو فیروز آباد تھانے میں درج مقدمے کے تحت گرفتار کیا گیا۔ وہ بھی اپنے بھائی سعید غنی کی طرح کراچی کی سیاست میں فعال نظر آتے ہیں۔ ان کا خاندان کئی سالوں سے پیپلز پارٹی سے وابستہ ہے۔

فرحان غنی کے خلاف مقدمہ درج کرانے والے حافظ سہیل کون ہیں؟

پولیس کے مطابق مدعی حافظ سہیل ایک ادارے کا ملازم ہے۔ فیروز آباد تھانے میں درج ایف آئی آر میں حافظ سہیل کا کہنا ہے کہ 22 اگست کو میں شارع فیصل سروس روڈ پر فائبر کیبل بچھانے کے کام کی نگرانی کر رہا تھا کہ 3 گاڑیوں میں سوار 25 سے زائد افراد وہاں پہنچے، جن میں فرحان غنی، قمر احمد، شکیل اور دیگر شامل تھے۔ مدعی کے مطابق ان لوگوں نے آ کر پوچھا کہ کس کی اجازت سے گڑھے کھود رہے ہو؟، ہم نے بتایا کہ تمام اداروں کی NOC کے ساتھ کام ہو رہا ہے، لیکن اس کے باوجود ان افراد نے تشدد کیا، اور قریبی پٹرول پمپ کے کمرے میں بند کر کے مارپیٹ کی۔ ساتھ ہی ہتھیار دکھا کر دھمکیاں بھی دیں۔

مزید خبریں

مقبول ترین خبریں