ٹرمپ کا خواب چکنا چور، نوبل امن انعام ماریہ کورینا مچاڈو کے نام

فہرستِ مضامین

وینزویلا کی جمہوریت پسند رہنما ماریہ کورینا نے 2025 کا نوبل امن انعام جیت لیا، ڈونلڈ ٹرمپ سمیت کئی دعویدار پیچھے رہ گئے

اوسلو (10 اکتوبر 2025) – نوبل امن انعام 2025 کا باوقار اعزاز اس بار وینزویلا کی جمہوریت نواز اپوزیشن رہنما ماریہ کورینا مچاڈو کے نام رہا۔ سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سمیت کئی عالمی شخصیات کی امیدوں پر پانی پھر گیا۔

نوبل کمیٹی کے سربراہ جورجین واٹن فریڈنس نے اوسلو میں اعلان کرتے ہوئے کہا:

“یہ انعام اس شخصیت کو دیا جاتا ہے جس نے اقوام کے درمیان رفاقت، فوجی طاقت کے خاتمے، اور پائیدار امن کے قیام میں غیر معمولی کردار ادا کیا ہو۔”

وینزویلا کی جمہوریت پسند رہنما ماریہ کورینا کون ہیں؟

ماریا کورینا وینزویلا کی ایک قدامت پسند، مگر جمہوریت پسند رہنما ہیں جو برسوں سے وینزویلا میں آمریت کے خلاف اور شہری آزادیوں کے لیے جدوجہد کر رہی ہیں۔ وہ اپوزیشن جماعت Vente Venezuela کی سربراہ اور انسانی حقوق کی سرگرم کارکن ہیں۔ انہوں نے نہ صرف پارلیمنٹ کی رکنیت حاصل کی بلکہ “Súmate” کے نام سے انتخابی شفافیت کے لیے ایک سول سوسائٹی پلیٹ فارم بھی قائم کیا، جسے بین الاقوامی سطح پر سراہا گیا۔

آمریت کے خلاف جدوجہد، امن کی علمبردار

ماریا کورینا مچاڈو نے وینزویلا میں برسوں تک شہری آزادیوں اور جمہوریت کے لیے آواز بلند کی۔ وہ Vente Venezuela جماعت کی سربراہ اور سابق رکن پارلیمنٹ (2011–2014) ہیں۔ انہیں یہ انعام جمہوریت کی پُرامن منتقلی کے لیے ان کی طویل جدوجہد پر دیا گیا ہے۔

ماریا کورینا نے “Súmate” کے نام سے انتخابی شفافیت کے لیے ایک شہری پلیٹ فارم بھی قائم کیا، جسے عالمی سطح پر پذیرائی ملی۔ 2018 میں انہیں بی بی سی کی 100 بااثر خواتین میں بھی شامل کیا گیا تھا۔

2023 کی سیاسی نااہلی، 2025 میں اغوا، پھر واپسی

2023 میں ماریا کورینا نے صدارتی الیکشن کی دوڑ میں اپوزیشن کی نمایاں امیدوار کے طور پر کامیابی حاصل کی، لیکن حکومتی عدالتی فیصلے سے انہیں 15 سال کے لیے نااہل قرار دے دیا گیا۔

جنوری 2025 میں وہ ایک احتجاجی مظاہرے کے دوران اچانک لاپتہ ہو گئیں۔ ان کے حامیوں نے اسے “سیاسی اغوا” قرار دیا۔ کئی گھنٹے بعد دوبارہ منظرِ عام پر آتے ہوئے انہوں نے کہا:

“میں خاموش نہیں بیٹھوں گی۔ یہ جدوجہد صرف میری نہیں، ہر اس شہری کی ہے جو آزادی کا خواب دیکھتا ہے۔”

عالمی اعزازات

ماریا کورینا مچاڈو کو عالمی سطح پر متعدد اعزازات سے نوازا جا چکا ہے۔ نوبل امن انعام سے پہلے ہی انہیں کئی بین الاقوامی انعامات مل چکے ہیں جن میں Václav Havel Human Rights Prize 2024 اور Sakharov Prize for Freedom of Thought 2024 شامل ہیں۔ یہ اعزازات ان کی انسانی حقوق اور آزادیٔ خیال کے لیے جدوجہد کو عالمی سطح پر تسلیم کرنے کا مظہر ہیں۔ اس کے بعد انہیں 2025 کا نوبل امن انعام بھی دیا گیا، جو ان کی قربانیوں اور امن کی کوششوں کا اعتراف ہے۔

ٹرمپ کے خواب چکنا چور

سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اس انعام کے لیے خاصے پُرامید تھے۔ اعلان سے چند گھنٹے قبل انہوں نے بیان دیا تھا:

“اگر مجھے یہ انعام نہیں دیا جاتا تو یہ ہمارے ملک کی بہت بڑی توہین ہو گی۔”

تاہم، نوبل کمیٹی نے واضح پیغام دیا کہ انعام صرف امن کے فروغ کے لیے عملاً کام کرنے والوں کو ہی ملے گا۔

نوبل امن انعام ہر سال اس شخصیت یا ادارے کو دیا جاتا ہے جس نے ملکوں کے درمیان تعلقات بہتر بنانے، مسلح تنازعات کے خاتمے اور امن کے فروغ کے لیے نمایاں کردار ادا کیا ہو۔

یہ انعام سویڈش سائنسدان الفریڈ نوبل کی یاد میں دیا جاتا ہے، جنہوں نے ڈائنامائٹ ایجاد کرنے کے بعد اپنی ساری دولت ایک فلاحی فنڈ کے لیے وقف کر دی تھی۔ پہلا نوبل انعام 1901 میں دیا گیا تھا۔

واضح رہے، ملالہ یوسفزئی کو 2014 میں تعلیم کے لیے جدوجہد پر نوبل انعام ملا تھا، اور وہ صرف 17 سال کی عمر میں یہ اعزاز پانے والی دنیا کی سب سے کم عمر شخصیت بنی تھیں۔

نوبل انعام کیلئے 338 امیدواروں کی نامزدگی

2025 کے نوبل امن انعام کے لیے 244 شخصیات اور 94 تنظیمیں نامزد تھیں۔ نامزدگی کا عمل 31 جنوری 2025 کو مکمل ہوا تھا۔

مزید خبریں

مقبول ترین خبریں