ماسکو ( ویب ڈیسک ) امریکہ اور روس کے درمیان یوکرین جنگ ختم کرنے کے حوالے سے پیدا ہونے والی کشیدگی، اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی روس سے تیل خرید نے والے ممالک پر 100 فیصد ٹیرف نافذ کرنے کی دھمکی کے بعد، امریکہ کے خصوصی نمائندے اسٹیو وٹکوف نے روس کا اہم دورہ کیا ہے۔
صدر ٹرمپ نے اس دورے سے ایک روز قبل خبردار کیا تھا کہ اگر روس جمعہ تک یوکرین جنگ کے خاتمے پر راضی نہ ہوا، تو امریکہ روس سے تیل خرید نے والے بڑے ممالک پر 100 فیصد ٹیرف نافذ کر سکتا ہے، روس سے تیل خرید نے والے سب سے بڑے ممالک بھارت اور چین ہیں۔
چین کی جانب سے اس دھمکی پر کوئی ردعمل سامنے نہیں آیا، لیکن بھارتی حکومت نے جواب میں کہا تھا کہ روس سے تیل خریدنا ان کی “مجبوری” ہے، کیونکہ یوکرین جنگ کے بعد عالمی سپلائی چین شدید متاثر ہوئی ہے، اس لیے وہ روس سے تیل خریدنے پر مجبور ہیں۔
بھارت، روس سے سمندر کے ذریعے خام تیل خریدنے والا جنوبی ایشیا کا سب سے بڑا ملک ہے۔ جنوری سے جون 2025 تک بھارت نے روزانہ اوسطاً 17.5 لاکھ بیرل روسی تیل خریدا، جو پچھلے سال کی نسبت زیادہ ہے۔
پیوتن سے ملاقات
صدر ٹرمپ کے خصوصی ایلچی اسٹیو وٹکوف نے ماسکو میں روسی صدر ولادیمیر پیوتن سے ملاقات کی، جس میں مختلف امور پر تبادلۂ خیال کیا گیا۔ روسی میڈیا نے ایک ویڈیو جاری کی ہے جس میں پوتن اور امریکی نمائندہ مصافحہ کرتے نظر آرہے ہیں۔
اس ملاقات کے بعد نہ تو کوئی میڈیا بریفنگ دی گئی اور نہ ہی روس کے صدارتی محل کریملن کی جانب سے کوئی سرکاری بیان جاری ہوا، مگر بین الاقوامی سطح پر اس ملاقات کو انتہائی اہم قرار دیا جا رہا ہے، کیونکہ صدر ٹرمپ کی دی گئی ڈیڈ لائن میں صرف 2 دن باقی رہ گئے ہیں۔
ڈونلڈ ٹرمپ کی دھمکی
گزشتہ روز صدر ٹرمپ نے ایک بیان میں دھمکی دی تھی کہ روس یوکرین جنگ کے خاتمے کے لیے سنجیدہ اقدامات نہیں کررہا، اس لیے وہ جلد ہی روس سے تیل خریدنے والے ممالک پر 100 فیصد یا اس سے زائد ٹیرف لگا سکتے ہیں۔
صدر ٹرمپ نے دھمکی دیتے ہوئے واضح طور پر کہا تھا کہ روس کو 10 اگست بروز جمعہ تک مہلت دی جا رہی ہے۔ پیوتن کی جانب سے اس دھمکی کو نظر انداز کیے جانے کے بعد ہی امریکی نمائندہ خصوصی ماسکو پہنچے ہیں۔
روس اور یوکرین جنگ
روس اور یوکرین کے درمیان جنگ 24 فروری 2022 کو اس وقت شروع ہوئی تھی، جب روسی صدر ولادیمیر پوتن نے اپنی فوج کو یوکرین پر حملہ کرنے کا حکم دیا۔
یہ جنگ پاکستان میں اس لیے بھی موضوعِ بحث بنی تھی کیونکہ جب روس نے یوکرین پر حملہ کیا تھا، اُس وقت پاکستان کے وزیرِاعظم عمران خان سرکاری دورے پر روس میں موجود تھے، اور اُن کی ملاقات بھی صدر پوتن سے ہوئی تھی۔
روسی دورے کے تقریباً دو ماہ بعد، اپریل 2022 میں پاکستان کی اپوزیشن جماعتوں نے تحریکِ عدم اعتماد کے ذریعے عمران خان کی حکومت کو برطرف کر دیا تھا۔