لاہور: وزیر اطلاعات پنجاب عظمیٰ بخاری نے لاہور میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ تحریک لبیک پاکستان (ٹی ایل پی) کے حالیہ احتجاج کے دوران لاشوں سے متعلق جھوٹا پروپیگنڈا کیا گیا۔ ان کا کہنا تھا کہ مریدکے واقعے میں 3 شہری شہید ہوئے جو محض راہ گیر تھے، جب کہ 45 افراد زخمی اور 110 پولیس اہلکار بھی تشدد کا نشانہ بنے۔
انہوں نے بتایا کہ پرتشدد احتجاج کے دوران پولیس موبائلز، ریسکیو گاڑیاں اور صفائی کی گاڑیاں نذر آتش کی گئیں، جبکہ مشتعل مظاہرین کے ساتھ اینٹوں سے بھری ٹرالیاں بھی موجود تھیں۔
عظمیٰ بخاری نے انکشاف کیا کہ ٹی ایل پی کو مالی معاونت فراہم کرنے والوں کی فہرست تیار کر لی گئی ہے، جس میں 3,800 افراد کی نشاندہی ہو چکی ہے۔ ان میں کئی پڑھے لکھے اور بااثر افراد شامل ہیں۔ ان کے خلاف دہشت گردی کی دفعات کے تحت مقدمات درج کیے جائیں گے۔
انہوں نے بتایا کہ سعد رضوی کے گھر سے بڑی مقدار میں سونا، چاندی، برانڈڈ گھڑیاں اور بھارتی کرنسی برآمد ہوئی ہے۔ اس کے علاوہ 91 بینک اکاؤنٹس کا بھی پتہ چلا ہے جنہیں سربمہر کیا جا چکا ہے۔
وزیر اطلاعات نے واضح کیا کہ خادم حسین رضوی کی قبر کو منتقل نہیں کیا جا رہا، تاہم اس مقام کو چندہ جمع کرنے اور اشتعال انگیزی کا ذریعہ بنانے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ ان مساجد کا انتظام معتدل علما کے سپرد کیا جائے گا۔
عظمیٰ بخاری نے والدین کو خبردار کیا کہ بچے اگر گرفتار ہوئے تو ان کا پولیس ریکارڈ، تعلیمی اداروں میں داخلہ اور ویزا سب متاثر ہوگا۔ انہوں نے اپیل کی کہ بچوں کو سوشل میڈیا پر شدت پسندی سے دور رکھیں۔
پنجاب کابینہ کی جانب سے ٹی ایل پی پر پابندی کی تجویز وفاق کو بھیج دی گئی ہے، اور عظمیٰ بخاری کے مطابق چند دنوں میں حتمی فیصلہ متوقع ہے۔ انہوں نے کہا کہ فیصلے پر اصل روح کے ساتھ عمل درآمد کیا جائے گا۔